سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 479 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 479

421 مرحوم نے حضور کے حکم کی تعمیل کی اور اس طرح حضور کی شفقت اور رہنمائی سے یہ اُجڑا ہوا گھر دوبارہ آباد ہوا“ مکرم عبد الحق صاحب احمد نگر حضور سے متعلق بہت پیاری یادوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں : - ۸۰ خدام حضور کے ارشاد کے مطابق لاہور سے سیالکوٹ ہوتے ہوئے معراجکے پہنچے وہاں ایک گورنمنٹ سکول میں ہمارے ٹھہرنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ہمارے انچارج محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب تھے اور ہمارے کمانڈر شیر احمد خان صاحب اور صو بیدار عبدالمنان صاحب تھے۔ایک دن پتہ چلا کہ حضور سیالکوٹ تشریف لائے ہیں۔اُس وقت ہر خادم یہی چاہتا تھا کہ حضور یہاں تشریف لائیں خیر یہ باتیں ہوتی رہیں پھر یہ اطلاع آئی کہ حضور یہاں تشریف لائیں گے یہ بات شیر احمد خان صاحب نے بتائی یہ بات سن کر سب خدام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اسی خوشی میں باتیں کرتے کرتے رات گزرگئی جب صبح ہوئی تو مغرب کی طرف سے حضور ایک جیپ میں تشریف لائے سب خدام سٹرک کے کنارے پر کھڑے ہو گئے۔حضور کی جیپ ہمارے قریب پہنچی تو آگے بڑھ کر صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے مصافحہ کیا اور پھر اسی طرح حضور نے سب خدام کو شرف مصافحہ بخشا۔ساتھ مرزا مظفر احمد صاحب بھی تھے جو ایک فوجی ٹرک میں سوار تھے۔پھر حضور نے دریافت فرمایا کہ یہاں سے دشمن کتنی دُور ہے اس کے بعد مرزا مبارک احمد صاحب نے اُس کا جواب دیا تو حضور نے فرمایا کہ اچھا مجھے نقشے دکھاؤ حضور کو ایک نقشہ پیش کیا گیا حضور ایک میز پر نقشہ کو بچھا کر قریباً آدھ گھنٹہ دیکھتے رہے۔اور ہم بھی قریب ہی کھڑے تھے حضور کے گلے میں ایک رائفل تھی کسی نے محترم کمانڈر شیر احمد خان صاحب سے کہا کہ حضور رائفل لے کر کھڑے کھڑے تھک گئے ہوں گے یہ راکفل آپ پکڑ لیں تو خان صاحب نے فرمایا کہ میں یہ جرأت نہیں کر سکتا۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ میں پکڑ لوں میں آگے بڑھا اور حضور کے قریب جا کر السَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہہ کر عرض کیا حضور ! یہ بہت وزنی رائفل ہے اس