سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 473 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 473

415 پہنچے تو سفر کی تھکان کی وجہ سے مجھے نیند آ گئی۔ابھی کھانا نہیں کھایا تھا جب کھانے کا وقت ہوا حضور کھانے کے کمرہ میں تشریف لے گئے۔خاکسار وہاں نہ تھا حضور نے سید محمد یسین صاحب (حضور کے باورچی ) کو بھجوایا کہ ظہور احمد نہیں ہے اسے ڈھونڈ کر لاؤ۔وہ آئے مجھے جگایا کہ حضور انتظار فرما رہے ہیں جلدی چلو۔میں نے جلدی ہاتھ منہ دھویا اور حاضر ہو گیا چھوٹی عمر تھی نا تجربہ کار تھا، ڈرتا ہؤا گیا کہ حضور ناراض ہوں گے۔میرے پہنچتے ہی حضور نے مسکراتے ہوئے سید محمد یسین صاحب کو فرمایا ، سب آ گئے ہیں اب کھانا لے آؤ۔بعد میں میں نے دیکھا کہ حضور کا یہ طریق تھا کہ سفر میں حضور اپنے تمام ہمراہیوں کے آرام کا چاہے وہ کسی درجہ کے ہوں ہر طرح سے خیال رکھتے۔سب کا انتظار کر کے کھانا شروع فرماتے اور اگر کوئی ساتھی باہر کام پر گیا ہوتا تو خادم کو بار بار تاکید فرماتے کہ ان کا کھانا رکھ چھوڑنا تا کہ جب واپس آئیں تو کھاسکیں“ حضرت منشی اروڑا خان صاحب کی عیادت کے لئے حضور ہسپتال تشریف لے گئے اخبار الفضل اس خُلق کریمانہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے :- بهای جمعہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح مع ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب آ۔کی کوٹھڑی میں گئے ، نبض دیکھی گئی چمچے کے ذریعہ دودھ دیا گیا ، آنکھیں تھیں بخار زور کا تھا ہوش بجا نہ تھے، سانس اکھڑی ہوئی تھی ، حضرت خلیفہ المسیح جمعہ کے بعد سے عصر کے وقت تک کوئی ڈیڑھ گھنٹہ منشی صاحب کے پاس اسی کوٹھڑی میں بیٹھے رہے۔مناسب دوائیں وغیرہ دی گئیں مگر ہوش بجانہ ہوئے“ ( الفضل یکم۔نومبر ۱۹۱۹ء صفحہ ۷ ) ایسے بے شمار واقعات میں سے ایک اور درج ذیل ہے: قادیان ۱۵۔جون۔آج صبح حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ابو عبید اللہ جناب حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی کی عیادت کے لئے نور ہسپتال میں تشریف لے گئے۔حافظ صاحب گزشتہ پانچ ماہ سے بعارضہ فالج بیمار ہیں۔اور نور ہسپتال میں دو ماہ سے بغرض علاج داخل ہیں لیکن ابھی تک بیماری میں کوئی نمایاں افاقہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔قریباً نصف گھنٹہ تک