سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 403 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 403

360 ساری دنیا ہے کیا چیز وہ تو ایک کیڑے کی بھی حیثیت نہیں رکھتی، ۱۹۵۳ء میں جب پنجاب میں فسادات رونما ہوئے، احمدیت کی شدید مخالفت کی گئی احمدیوں کے گھروں کو آگئیں لگائی گئیں اور اس قسم کی افواہیں سننے میں آئیں کہ کہیں آپ پر بھی ہاتھ نہ ڈالا جائے اور گرفتار نہ کر لیا جائے۔چنانچہ اُن دنوں میں قصر خلافت کی تلاشی بھی لی گئی لیکن آپ کی طبیعت میں ذرہ بھر بھی گھبراہٹ نہ تھی سکون سے اپنے کام جاری تھے۔جو لوگ آپ سے محبت کرتے تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ چند روز کے لئے باہر چلے جائیں بلکہ گھبرا کر کراچی کے بعض ذمہ دار دوست آپ کو لینے کے لئے بھی آ گئے کہ آپ وہاں چلے چلیں چند دن میں یہ شورش ختم ہو جائے گی۔آپ نے ان دوستوں کا ہمدردانہ مشورہ سنا تھوڑی دیر کے لئے اندر آئے اور آکر دعا شروع کر دی۔دعا ختم کر کے باہر تشریف لے گئے اور جا کر ان دوستوں سے کہا کہ میں ہرگز جانے کے لئے تیار نہیں جو خدا وہاں ہے وہی یہیں ہے۔اللہ تعالیٰ میری یہیں حفاظت کرے گا اور جو مجھ پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرے گا وہ خدا تعالیٰ کے عذاب اور گرفت سے ڈرے۔چنانچہ چند ہی دن میں ملک میں انقلاب آ گیا۔جو مخالفت میں اُٹھے تھے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے اور جو ان کے سرکردہ تھے وہ الہی گرفت میں آئے۔صداقت کو پھیلانے کی تڑپ شدید توپ تھی کہ دنیا جلد سے جلد صداقت کو قبول کرے اس سلسلہ میں اپنا ذاتی مشاہدہ بیان کرتی ہوں۔۱۹۳۸ء کا واقعہ ہے میری طرف حضور کی باری تھی کہ رات کو آپ نے رؤیا دیکھا۔رویا لمبا ہے اس لئے تفصیل سے نہیں لکھتی ”المبشرات ، میں شائع ہوا ہوا ہے۔اس میں آپ نے ایک زبر دست طوفان کا نظارہ دیکھا۔آپ جاگ اُٹھے مجھے جگایا اور فرمایا کہ میں نے رؤیا دیکھا ہے میں لکھوا تا ہوں ابھی لکھ لو ( آپ کا دستور تھا کہ جب بھی کبھی کوئی رؤیا دیکھتے عموماً اُسی وقت جگا کر لکھوا دیتے تھے ) رویا لکھوانے کے بعد آپ کی طبیعت میں بے چینی پیدا ہوگئی کمرہ سے باہر صحن میں نکل گئے اور ٹہل ٹہل کر نہایت رقت اور سوز و گداز سے قرآن مجید کی یہ آیات تلاوت کرنے لگے۔قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلاً وَّ نَهَاراً فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَاءِ إِلَّا فِرَاراً۔وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَلَهُمْ جَعَلُوا اَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوُا ثِيَابَهُمْ وَاَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا ثُمَّ إِنِّى دَعَوْتُهُمْ جِهَاراً ثُمَّ اِنّى اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ أَسْرَرْتُ لَهُمُ إِسْرَاراً۔فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمُ إِنَّهُ كَانَ غَفَّاراً۔يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَاراً۔ويُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالِ