سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 401
358 کے وجود کا کیا ثبوت ہے؟ میں دیر تک رات کے وقت اس مسئلہ پر سوچتا رہا آخر دس گیارہ بجے میرے دل نے فیصلہ کیا کہ ہاں ایک خدا ہے۔وہ گھڑی میرے لئے کیسی خوشی کی گھڑی تھی جس طرح ایک بچہ کو اُس کی ماں مل جائے تو اسے خوشی ہوتی ہے اسی طرح مجھے خوشی تھی کہ میرا پیدا کرنے والا مجھے مل گیا۔سماعی ایمان علمی ایمان سے تبدیل ہو گیا، میں اپنے جامہ میں پھو لانہیں سماتا تھا میں نے اُس وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور ایک عرصہ تک کرتا رہا کہ خدایا! مجھے تیری ذات کے متعلق کبھی شک پیدا نہ ہو اس وقت میں گیارہ سال کا تھا۔مگر آج بھی اس دعا کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں میں آج بھی یہی کہتا ہوں کہ خدایا! تیری ذات کے متعلق مجھے کبھی شک پیدا نہ ہو۔ہاں اس وقت میں بچہ تھا اب مجھے زائد تجربہ ہے اب میں اس قدر زیادتی کرتا ہوں کہ خدایا مجھے تیری ذات کے متعلق حق الیقین پیدا ہو تاریخ خلافت ثانیہ شاہد ہے، دوست بھی اور دشمن بھی کہ آپ کبھی کسی بڑے سے بڑے ابتلاء پر نہیں گھبرائے۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر کامل تو کل رہا اور اپنے اس یقین کو بڑی تحدی سے دنیا کے سامنے پیش فرماتے رہے جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہا ماً بتا دیا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں تو آ۔نے فرمایا: - ”خدا نے مجھے اس غرض کے لئے کھڑا کیا ہے کہ میں محمدرسول اللہصل الله و الا یلم اور قرآن کریم کے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں اور اسلام کے مقابلہ میں دنیا کے تمام باطل ادیان کو ہمیشہ کی شکست دیدوں۔دنیا زور لگالے اور اپنی تمام طاقتوں اور جمعیتوں کو اکٹھا کر لئے عیسائی بادشاہ بھی اور ان کی حکومتیں بھی مل جائیں، یورپ بھی اور امریکہ بھی اکٹھا ہو جائے دنیا کی تمام بڑی بڑی مال دار اور طاقتور قو میں اکٹھی ہو جائیں اور وہ مجھے اس مقصد میں نا کام کرنے کے لئے متحد ہو جائیں پھر بھی میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ میرے مقابلہ میں نا کام رہیں گی اور خدا میری دعاؤں اور تدابیر کے سامنے ان کے تمام منصوبوں اور مکروں اور فریبوں کو ملیا میٹ کر دے گا“ (الموعود صفحه ۲۱۲٬۲۱۱) آپ کے باون سالہ دورِ خلافت کا ایک ایک دن شاہد ہے زمین اور آسمان گواہ ہیں کہ