سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 398
355 میری زندگی کا نصب العین حضرت ابا جان کی وقت رخصت نصیحت اور شادی کے معاً بعد حضرت خلیفة المسیح الثانی کی آرزو دونوں نے۔مل کر سونے پر سہا گہ کا کام کیا اور زندگی کا نصب العین صرف اسلام کی خدمت اور حضرت خلیفة المسیح الثانی کی خدمت اور اطاعت بن کر رہ گیا۔شروع شروع میں غلطیاں بھی ہوئیں، کوتا ہیاں بھی ہوئیں لیکن آپ کی تربیت اور سکھانے کا بھی عجیب رنگ تھا آہستہ آہستہ اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتے چلے گئے۔شادی کے بعد آپ نے میری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور خود اس میں راہ نمائی فرماتے اور دلچسپی لیتے رہے۔بی۔اے پاس کرنے کے بعد آپ نے دینی تعلیم کا سلسلہ شروع کر وا دیا۔قرآن مجید خود پڑھانا شروع کیا لیکن سبقاً سارا نہیں پڑھا۔سورۃ مریم سے سورۃ سبا تک حضور سے سبقاً قرآن مجید پڑھا اور چند ابتدائی پارے اور آخری دو پارے۔شروع میں ہمیں گھر پر پڑھانا شروع کیا تھا۔مجھے عزیزہ امتہ القیوم سلمہا۔عزیزم مبارک احمد اور عزیزم منور احمد کو پڑھاتے تھے۔آہستہ آہستہ دوسرے لوگوں کی خواہش پر پھر وہ با قاعدہ درس کی صورت اختیار کر گیا اور تفسیر کبیر کی صورت میں شائع بھی ہو چکا ہے۔اتنا پڑھا کر پھر کبھی سبقا نہیں پڑھایا ہاں عورتوں میں بھی اور مردوں میں بھی جو درس ہوتا تھا وہ سنتی تھی اور باقاعدہ نوٹ لیتی تھی جو بعد میں حضور ملاحظہ فرمایا کرتے۔نوٹ لینے کی عادت بھی آپ نے ہی ڈالی۔جب درس ہوتا تو آپ فرماتے ایک ایک لفظ لکھنا ہے بعد میں میں دیکھوں گا۔آہستہ آہستہ اتنا تیز لکھنے کی عادت پڑ گئی کہ حضور کی جلسہ سالانہ کی تقریر بھی نوٹ کر لیتی تھی اور حضور بھی وقتاً فوقتاً کوئی مضمون لکھوانا ہوتا تو عموماً مجھ سے ہی املاء کرواتے۔۱۹۴۷ء کے بعد سے تو قریباً ہر خطہ ہر مضمون ہر تقریر کے نوٹ مجھ سے ہی املاء کروائے۔إِلَّا مَا شَاءَ الله - تفسیر صغیر کے مسودہ کا اکثر حصہ حضور نے مجھ سے ہی املاء کروایا۔ٹہلتے جاتے تھے قرآن مجید ہاتھ میں ہوتا تھا اور لکھواتے جاتے تھے۔جب خاصا مواد لکھا۔چکا ہوتا تو پھر محکمہ ز و دنویسی کو صاف کرنے کے لئے دے دیتے۔قرآن مجید پڑھاتے ہوئے بھی اس بات پر زور دیتے تھے کہ خود غور کرنے کی عادت ڈالو۔اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تب پوچھو۔عربی کی صرف و نحو مکمل مجھے آپ نے خود پڑھائی اور ایسے عجیب سادہ طریق سے پڑھائی کہ یہ مضمون کبھی مشکل ہی نہ لگا۔عام طور پر عربی کے طالب علم صرف ونحو سے ہی گھبراتے ہیں مگر آپ کے پڑھانے کا طریق اتنا سادہ اور عام فہم ہوتا تھا کہ یوں لگتا تھا کہ یہ کوئی مشکل چیز ہی نہیں ہمیں پہلے سے آتی تھی۔