سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 389
346 دوسری زبان عربی ہونی چاہئے پورا کرنے کا یہ بہترین طریق ہے کہ عربی بولنے والی عورتوں سے شادی کی جائے تا بچوں میں عربی کا چرچا ہو اس لئے میں نے یہ ارادہ کر لیا تھا کہ میں اس جگہ ممکن ہوا تو شادی کروں گا اور اس کا اظہار بھی کرتا رہا جس کی اطلاع انہیں بھی ملتی رہی۔۱۹۲۴ء میں سیٹھ صاحب قادیان تشریف لے آئے اور گو میرے حالات اُس وقت شادی کے متقاضی نہ تھے مگر چونکہ ایک رنگ کا وعدہ ہو چکا تھا میں نے حافظ روشن علی صاحب کی معرفت اس مسئلہ کو طے کرنا چاہا۔معاملہ ایک حد تک طے ہو چکا تھا کہ امتہ ائی صاحبہ کی طبیعت یکدم زیادہ بگڑ گئی اور دو چار دن میں وہ فوت ہو گئیں۔اس سے بات درمیان میں رہ گئی لیکن اس دوران میں میں نے بعض خواہیں دیکھیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس جگہ شادی ہونی مقدر ہے مگر خوا ہیں چونکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں میں نے خیال نہ کیا لیکن جلسہ کے قریب جبکہ پہلے خیال کو میں قطعی طور پر دل سے نکال چکا تھا میں نے پھر اسی قسم کی رؤیا دیکھی اور ادھر والدہ صاحبہ حضرت اماں جان نے جو اُن دنوں شملہ میں تھیں اس قسم کی رؤیا دیکھی جس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ شادی مقدر ہے لیکن تب بھی میں نے کوئی زیادہ توجہ نہ کی لیکن جلسہ کے موقع پر اور اس کے بعد چند اور لوگوں نے جن کو کچھ بھی اس امر کی واقفیت نہ تھی ایسی رؤیاء سنا ئیں جن سے اس امر کا اظہار ہوتا تھا اس لئے میں نے استخارہ کر کے دوستوں سے مشورہ کیا اور اکثر دوستوں نے یہی مشورہ دیا کہ مجھے پچھلے وعدوں اور خوابوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ شادی بھی کر لینی چاہئے۔چونکہ خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قضائے الہی یہی ہے اور میں خدا تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ رضائے الہی بھی یہی ہو اس لئے میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ میں اس جگہ نکاح کرلوں۔سیٹھ صاحب مذکور نہایت مخلص آدمی ہیں اور ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخلاص کو دیکھ کر ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے یہ سامان کیا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس رشتہ میں کوئی ایسا فائدہ ہو جو اس وقت مجھے نظر نہیں آتا اور آئندہ ظاہر ہو۔وَاللهُ أَعْلَمُ -