سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 384 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 384

341 سے شادی میں بھی حضور کے پیش نظر وہی جماعتی مفاد اور دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جذبہ ہی تھا جس کا پہلے ذکر ہو چکا۔حضور نے اس نکاح کا اعلان ۱۲ را پریل ۱۹۲۵ء کو خود فرمایا اور خطبہ نکاح میں اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- یہ خوشی کا موقع ہے مگر اس کی وجہ سے ایک طرف گھبراہٹ بھی ہوتی ہے کہ نہ معلوم گل کے لئے اس میں کیا کچھ مخفی ہے اور خاص کر میرے جیسے انسان کی حالت کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا جس کے لئے اس کام میں اس قسم کی خوشی نہیں جیسی کہ عام طور پر لوگوں کو ہوتی ہے۔۔۔۔۔میں ایک خاص ذمہ داری بعض حالات کے ماتحت اُٹھا رہا ہوں۔پس میں جس تقریب کے لئے آج کھڑا ہوا ہوں وہ میرے لئے نہایت ہی اہم تقریب ہے۔آج سے چند ماہ پہلے میں یہ وہم بھی نہیں کرتا تھا کہ ایک اور شادی کروں گا بلکہ ایک بات پیدا بھی ہوئی تو میں نے ایک دوست کو بتایا کہ میں حالات کے لحاظ سے بالکل معذور ہوں لیکن میں نہیں سمجھ سکتا کہ آئندہ زمانہ میں خدا تعالیٰ نے کیا مقدر کیا ہوا ہے اگر میری ذمہ داریاں جو جماعت کا امام ہونے کے لحاظ سے مجھ پر عائد ہوتی ہیں ان کے پورا کرنے کا مجھے خیال نہ ہوتا اور جماعت کی اغراض اور مقاصد اس بات کے لئے محرک نہ ہوتے تو آج اس تقریب کے لئے میں ممبر پر کھڑا ہونے کی کبھی جرات نہ کرتا کیونکہ میں بیاہ شادیوں سے دل برداشتہ ہو چکا ہوں اب میرے لئے اس فعل میں کوئی خوشی نہیں اور مجھے اس میں کوئی جسمانی راحت نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ جو خدا تعالیٰ پیدا کر دے کوئی لمبا عرصہ نہیں گزرا کچھ دن ہوئے میں نے اسی مسجد میں ایک ٹیچر دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ میں نہیں سمجھ سکتا میں کوئی اور شادی کرنے کے قابل ہوں۔مجھ میں اب اتنی ہمت نہیں ہے کہ ایک نو جوان لڑکی کوٹوں اور اُسے تعلیم دے کر اس قابل بنا سکوں کہ سلسلہ کا کام اس طریق سے جو میرے مدنظر ہے کر سکے لیکن بعد کے میرے غور اور بعض دوستوں نے جو مشورے دیئے اور بعض ایسے دوست جن سے میں نے مشورہ لیا ان سے استخارے کرائے اور خود بھی کئے اس سے میری توجہ اس طرف مائل ہوئی کہ عورتوں میں اعلی تعلیم کو رواج دینے اور ان میں