سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 377 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 377

334 پورے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کئی اخبار پوری ہوئیں اور جماعت کو ہمہ جہتی ترقی و کامیابی حاصل ہوئی۔حضرت مریم کی شادی کے متعلق حضرت مصلح موعود کا بیان آپ کی سیرت کے بہت سے پہلوؤں کو نمایاں کرنے والا ہے۔آپ نے حضرت اُم طاہر کی وفات پر ” میری مریم کے بہت پیار بھرے عنوان سے ایک مفصل مضمون رقم فرمایا۔اردو محاورہ ” دل نکال کر رکھ دینا اس مضمون سے زیادہ کم ہی کسی اور جگہ چسپاں ہوسکتا ہوگا۔آپ فرماتے ہیں :- ایک دن شاید ۱۹۱۷ ء یا ۱۹۱۸ء تھا کہ میں امتہ الحئی مرحومہ کے مکان میں بیت الخلاء سے نکل کر کمرہ کی طرف آ رہا تھا۔راستہ میں ایک چھوٹا سا صحن تھا۔اس کے ایک طرف لکڑی کی دیوار تھی۔میں نے دیکھا ایک دبلی پتلی سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی مجھے دیکھ کر اس لکڑی کی دیوار سے چمٹ گئی اور اپنا سارا لباس سمٹالیا میں نے کمرہ میں جا کر امتہ الحئی مرحومہ سے پوچھا امتہ الحمی یہ لڑکی باہر کون کھڑی ہے؟ انہوں نے کہا آپ نے پہچانا نہیں ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم ہے۔میں نے کہا اس نے تو پردہ کیا تھا اور اگر سامنے بھی ہوتی تو میں اسے کب پہچان سکتا تھا۔۱۹۰۷ء کے بعد اس طرح مریم دوبارہ میرے ذہن میں آئی اب میں نے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا مریم کی شادی کی بھی کہیں تجویز ہے؟ جس کا جواب مجھے یہ ملا کہ ہم سادات ہیں۔ہمارے ہاں بیوہ کا نکاح نہیں ہوتا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں کسی جگہ شادی ہو گئی تو کر دیں گے ورنہ لڑکی اسی طرح بیٹھی رہے گی۔میرے لئے یہ سخت صدمہ کی بات تھی میں نے بہت کوشش کی کہ مریم کا نکاح کسی اور جگہ ہو جائے مگر ناکامی کے سوا کچھ نتیجہ نہ نکلا آخر میں نے مختلف ذرائع سے اپنے بھائیوں سے تحریک کی کہ اس طرح اس کی عمر ضائع نہ ہونی چاہئے اُن میں سے کوئی مریم سے نکاح کرلے لیکن اس کا جواب بھی نفی میں ملا۔تب میں نے اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فعل کسی جان کی تباہی کا موجب نہ ہونا چاہئے اور اس وجہ سے کہ ان کے دو بھائیوں سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب سے مجھے بہت محبت تھی میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں مریم سے خود نکاح کر لونگا۔۷۰۰۰۰۰۔فروری ۱۹۲۱ء کو ہمارا نکاح مسجد مبارک کے قدیم حصہ میں ہو گیا وہ نکاح