سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 376
333 انداز آتین ہزار روپی تھی یعنی تین ہزار روپے سے کچھ کم تھی۔میں اس کی وصیت کے مطابق کہ اس کے ایک تہائی حصہ کو خدمت دین کے لئے دیا جائے ایک ہزار روپیہ صدر انجمن احمد یہ قادیان کو بھیجتا ہوں۔مرحومہ کی جائیداد میں سے جو حصہ شرعاً میرا بنتا ہے اس کے متعلق بھی وعدہ کرتا ہوں کہ روپیہ میسر ہوتے ہی میں فی سبیل اللہ کارکنان مقبرہ بہشتی کے حوالہ کر دوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ اگر شریعت اجازت دیتی تو مرحومہ موجودہ وصیت سے بہت زیادہ وصیت کرتی۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔حضرت سیدہ مریم صاحبہ (اُمم طاہر ) 6 خاکسار مرزا محمود احمد (الفضل ۲۰۔دسمبر ۱۹۲۴ء) حضرت سیدہ مریم صاحبہ (اُمم طاہر ) سے شادی کا پس منظر یہ ہے کہ :- حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ( ولادت ۱۴ - جون ۱۸۹۹ء ، وفات ۱۶۔ستمبر ۱۹۰۷ء) کی علالت کے دوران کسی نے رویا میں دیکھا کہ صاحبزادہ صاحب کی شادی ہو رہی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس کی تعبیر تو بخوبی سمجھتے تھے بلکہ حضور کو بھی بعض ایسے الہام ہو چکے تھے جن سے پتہ چلتا تھا کہ آپ صغر سنی میں ہی وفات پا جائینگے تاہم مقربانِ بارگاہ الہی کے طریق پر آپ نے ظاہری طور پر بھی اس خواب کو پورا کرنے کے لئے مریم بنت حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب سے صاحبزادہ صاحب کی شادی کر دی۔خدا کی تقدیر کے مطابق حضرت میاں صاحب کی وفات ہو گئی اور اس طرح یہ تعلق اور سلسلہ یہاں پر ختم ہو گیا۔تاہم حضرت ڈاکٹر صاحب کے خاندانی دستور کے مطابق مریم کی شادی اسی گھر میں تو ہو سکتی تھی کسی اور گھر میں اسے بیاہنا مناسب نہیں تھا۔'مریم جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ان کی بہو بننے کے اعزاز سے بہرہ ور ہوئیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ایک عجیب کامیاب و کامران زندگی مقدر فرمائی تھی۔یہ وہی مریم ہیں جو بعد میں حضرت فضل عمر کے عقد میں آئیں اُم طاہر کے نام سے شہرت پائی خدمت خلق ایثار اور خدمتِ دین کے انمٹ نقوش چھوڑ گئیں اور ان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ وہ نہ صرف حضرت مسیح موعود کے دو بیٹوں سے بیاہی گئیں اور پھر یہ بھی کہ آپ کے بطن سے وہ عظیم فرزند پیدا ہوا جو خلافت رابعہ کی مسند پر متمکن ہوا اور جس کے ذریعہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کئی الہامات