سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 375 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 375

332 فرماتے ہیں:- میں نے ارادہ کیا کہ فوراً ان کو تعلیم دوں مگر وہ اس شوق میں مجھ سے بھی آگے بڑھی ہوئی نکلیں۔ابتداء میں کبھی سبقوں میں ناغے بھی کر دیتا تھا۔مگر وہ کہہ کر اور زور دیکر اپنی تعلیم کو جاری رکھتی تھیں اور اس میں انہوں نے بہت ترقی کی۔وہ قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح پڑھا لیتی تھیں۔بلوغ المرام پڑھاتی تھیں اور وفات سے چار پانچ روز پہلے ہی مجھ سے مشورہ کر رہی تھیں کہ لڑکیوں کو مشکوۃ پڑھانی ہے۔تعلیم کی یہ خواہش جو اُن میں تھی وہ دیگر عورتوں میں نظر نہیں آتی۔“ اور اب میری عمر بھی اس قابل نہیں کہ اور شادی کروں اور دس سال تک اُس کو تعلیم دوں اور تربیت کروں اس لئے عورتوں کے متعلق مجھے نہایت تاریک پہلو نظر آتا ہے۔میں جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی سامان پیدا کر دے گا مگر اس کے لئے جس دعا کی ضرورت ہے وہ ایک درد اور تڑپ چاہتی ہے۔پس میں نے اپنے غم و درد کا اظہار کسی کے سامنے نہیں کیا۔ہاں خدا تعالیٰ کے حضور اس قدر غم و درد کا اظہار کیا ہے کہ جس سے میں یقین کرتا ہوں کہ میری دعا ئیں عرش کو اس طرح ہلائیں گی جس طرح دردمند شخص کی ہلایا کرتی ہیں۔“ حضرت سیدہ امتہ اکئی کی طرف سے حصہ آمد کی ادائیگی حضور نے فرمائی اس تحریر کے ہر لفظ سے مرحومہ کے لئے محبت کے قابل قدر جذبے کا کس خوبی و عمدگی سے اظہار ہو رہا ہے۔مجلس معتمدین کے سیکرٹری صاحب کے نام حضور نے اپنے خط میں تحریر فرمایا: - سیکرٹری صاحب مجلس معتمدین السَّلَامُ عَلَيْكُمْ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کی قضاء کے ماتحت آج سوا تین بجے میری راحت جان بیوی امة الى كَانَتْ تَحْتَ ظِلّ الله - دختر استاذی المکرم حضرت خلیفہ اول اپنے رب سے جاملی ہے۔مرحومہ کی جائداد، مہر و دیگر زیورات و قیمت زمین جو مرحومہ نے خود اپنی زندگی میں فروخت کر دی تھی گل