سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 22 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 22

22 مرحوم، قاضی امیرحسین صاحب مرحوم ، مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور اس طرح کے بہت سے دوسرے بزرگوں کو کھڑے ہو کر نہایت مستعدی سے ڈیوٹی سرانجام دیتے دیکھ کر میرے دل پر بہت گہرا اثر ہوا۔سید سرور شاہ صاحب مرحوم خزانہ صدر انجمن ( بیت المال) کے باہر پہرہ پر متعین تھے۔وہ کسی نو عمر نو جوان کی طرح بالکل پرستی سیدھے استادہ تھے۔انہوں نے اپنا پاجامہ گھٹنوں تک چڑھایا ہوا تھا، ایک خنجران کی کمر میں لٹکا ہوا تھا اور دائیں ہاتھ میں انہوں نے ایک لاٹھی تھام رکھی تھی اور ان کی آنکھیں تاریکی میں بھی چوکسی کیوجہ سے چمک رہی تھیں۔( خدا تعالیٰ ان پر راضی ہو اور اس مقدس مجلس کے تمام احباب پر بھی ) پہلی رات کا دورہ تین بجے کے لگ بھگ ختم ہوا۔حضرت صاحب نے حفاظتی اقدامات کے سلسلہ میں بعض کمزوریوں کو محسوس فرمایا اور آپ انہیں دور کرنے اور مضبوط بنانے کے لئے بہت بے چین تھے۔مقامی ذرائع تحفظ مکمل طور پر مستعد و چوکس تھے اور ہر ایک فرد فرائض میں نبھا ہوا تھا۔چنانچہ اس وقت بیرونی امداد کی ضرورت در پیش تھی اور کسی شخص کو قابل اعتماد متعلقہ افراد تک زبانی ہدایات کو لے جانا اور آسان طریق سے پہنچانا تھا۔ایک یا دو نام تجویز کئے گئے لیکن وہ مناسب خیال نہ فرمائے گئے۔میں نے اپنے ایک طالب علم ساتھی چوہدری بشیر احمد صاحب کا نام پیش کیا۔حضرت صاحب نے انہیں بلایا اور انہیں ہدایات دے کر یہ فرمایا کہ وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہو کر روانہ ہو جائیں اور کام مکمل کر کے واپسی پر فوری طور پر آپ کی خدمت میں رپورٹ کریں۔چنانچہ بشیر احمد صاحب اسی وقت اپنی گھوڑی پر سوار ہو کر آٹھ گھنٹے کے لئے روانہ ہو گئے۔تمام مقامات پر ہدایات پہنچا کر دو پہر سے پہلے پہلے قادیان واپس پہنچ کر حضور کی خدمت میں رپورٹ پیش کر دی۔جس وقت حضرت صاحب نے پہلی رات نصائح ختم فرما ئیں اور آپ کام سے فارغ ہوئے تو افق پر صبح بہت تیزی سے نمودار ہورہی تھی۔میں نہیں جانتا کہ آپ پھر سو بھی سکے ہوں لیکن مجھے اس امر کا بخوبی علم ہے کہ یہ تکلیف دہ اور خطرناک صورت حال لگا تار تین دن اور تین راتیں رہی۔آپ ہمیشہ ہر شخص سے زیادہ مستعد رہتے اور ہر وقت معائنہ فرماتے ہوئے غور وفکر کرتے ہوئے سکیم تیار