سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 318
284 شخص ہے۔پس احرار کے گند سے مسلمانوں کے شریف طبقہ میں صرف تجس پیدا ہوا۔ایک رو تحقیق کی پیدا ہوئی اس سے زیادہ اُنہوں نے کوئی اثر قبول نہیں کیا۔اسی طرح میرے یہاں پہنچنے پر دو چار دن کے بعد ایک مشہور مسلمان لیڈر نے جنہیں گورنمنٹ کی طرف سے سر کا خطاب بھی ملا ہوا ہے مجھے لکھا کہ میں آپ کے سفر کے حالات اخبار میں غور سے پڑھتا رہا ہوں اور میں اس دورہ کی کامیابی پر آپ کو مبارکباد دیتا ہوں حالانکہ ان کا اس سفر سے کوئی واسطہ نہ تھا، نہ وہ اُن شہروں میں سے کسی ایک میں رہتے تھے جہاں میں گیا، نہ وہ اُن علاقوں کے باشندے ہیں۔ایک دُور دراز کے علاقہ میں وہ رہتے ہیں اور مسلمانوں کے مشہور لیڈر ہیں ، مگر اُنہوں نے بھی اس دورہ کی کامیابی پر مبارکباد کا خط لکھنا ضروری سمجھا۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرفاء کے دلوں میں ایک گرید تھی اور بجائے اس گند سے متاثر ہونے کے شریف طبقہ ایک تجس کی نگاہ سے تمام حالات کو دیکھ رہا تھا اور اندرونی طور پر وہ ہم سے ہمدردی رکھتا تھا۔میں سمجھتا ہوں ان حالات میں مسلمانوں کے متعلق میری بدظنی گناہ کا موجب تھی اور میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے اس سفر کا موقع دیا تا وہ خیال جو ایک شکوہ کے رنگ میں مسلمان شرفاء کے متعلق میرے دل میں پیدا ہو وہ چکا تھا کہ انہوں نے وہ اُمید پوری نہیں کی جوان پر مجھے تھی دُور ہو جائے۔چنانچہ مجھ پر اس سفر نے یہ ثابت کر دیا کہ میرا پہلا خیال غلط تھا اور در حقیقت اُن کی خاموشی صرف ہیبت کی وجہ سے تھی ورنہ شریف دل میں شریف ہی تھے اور وہ اس گند کو پسند نہیں کرتے تھے جو احرار کی طرف سے اُچھالا الفضل ۲۴ نومبر ۱۹۳۸ء صفحه ۵٬۴) گیا۔“ اس سفر سے واپسی پر حضور دہلی بھی تشریف لے گئے جہاں حضور نے ۲۸۔اکتوبر جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا اور نماز پڑھائی۔اسی روز خواجہ حسن نظامی صاحب کے ہاں اور پھر خان بہادر راجہ اکبر علی صاحب کے ہاں دعوت پر تشریف لے گئے جہاں پر بہت سے معززین مدعو تھے۔(الفضل یکم نومبر ۱۹۳۸ء صفحه ۱) دہلی سے واپسی کے وقت ریلوے سٹیشن پر الوداع کہنے والوں میں چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب //////