سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 315
281 تحریک جدید نے جہاں کھانے کے متعلق سادگی پیدا کر دی ہے وہاں میرے جیسے بیمار کیلئے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں۔ایک کھانے کی وجہ سے سوائے خاص حالات کے چاول میں نہیں کھا سکتا روٹی کھاتا ہوں کیونکہ چاول کم بیچتے ہیں۔اگر ایک سالن ہماری پنجابی طرز کا پک سکے اور تنور کی یا توے کی چپاتی مل سکے تو مجھے سہولت رہے گی۔حیدر آباد کی طرف پیاز کی کثرت اور میٹھا اور کھٹا کھانے میں ملا دیتے ہیں جو میرے معدے کیلئے سخت مضر ہوتا ہے اور مجھے بہت جلد ایسے کھانوں سے بخار ہو جاتا ہے۔گو مجھے کھانے کے متعلق یہ ہدایت دینے سے شرم محسوس ہوتی ہے مگر چونکہ میری صحت سخت کمزور ہے اور میری زندگی در حقیقت ایسی ہے جیسے ربڑ کی گڑیا کو پھونک مار کر بٹھا دیتے ہیں اس طرح اللہ تعالیٰ کی پھونک ہی کچھ زندہ رکھے جاتی ہے اس وجہ سے مجھے با وجود حیا کے یہ امر لکھنا پڑا۔میں پرسوں سندھ جارہا ہوں۔اس بارے میں اگر کوئی اور بات آپ نے پوچھنی ہو تو ناصر آباد ( کنجے جی ضلع میر پور خاص سندھ کے پتہ پر خط لکھیں۔بمبئی ہم جہاز کے ذریعہ سے آئیں گے، میرے ساتھ پرائیوٹ سیکرٹری کے علاوہ چند معاون کارکن ہوں گے شاید کوئی دوست قادیان سے میری ہدایت کے مطابق آجا ئیں۔“ اس خط کے مضمون میں جو سادگی اور بے تکلفی پائی جاتی ہے وہ حضور کی سیرت کا ایک نمایاں پہلو ہے۔حضرت سیٹھ صاحب یقیناً حضور کی آمد کو اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد اور خاندان کیلئے خوش بختی اور سعادت سمجھتے ہوں گے۔وہاں کی جماعت بھی اس آمد کو اپنے لئے باعث سعادت۔اور وجہ افتخار بجھتی ہوگی مگر اس کے باوجود اس خط کا لہجہ اور مضمون آپ کی عظمت کا مظہر ہے۔ایک اور بات جسکی طرف قاری کی توجہ جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تحریک جدید حضور کی جاری کی ہوئی تحریک تھی اسکے مطالبات کسی اور نے نہیں خود حضور نے جماعتی بہتری و وقار کیلئے پیش فرمائے تھے مگر باوجود بیمار ہونے کے آپ ان مطالبات پر پوری پابندی سے عمل کرتے تھے اور اپنی سہولت کی خاطر ان کو نظر انداز نہیں فرماتے تھے۔جماعت کیلئے مثالی نمونہ پیش کرنے کی بہت پیاری مثال ہے۔اس سفر سے حاصل ہونے والے نتائج واثرات کے متعلق حضور فرماتے ہیں :۔