سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 302 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 302

280 اس خیال سے کہ وہ علاقہ دُور ہے اخراجات زیادہ ہوں گے میں آنے سے رُکا رہا۔لیکن اب حالات اس طرف کے ایسے ہو گئے ہیں شاید مجھے ان علاقوں کی طرف زیادہ توجہ کرنی پڑے۔۔۔۔۔۔۔میں نے یہ ارادہ کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس دفعہ سندھ سے میں حیدر آباد ہوتا آؤں۔مجھے اس کا زیادہ خیال اس لئے بھی ہوا ہے کہ جو رویا میں نے حیدر آباد کے متعلق دیکھی تھی اس میں ایک حصہ یہ تھا کہ میں پہلے حیدر آباد کا معائنہ کرنے گیا ہوں اور پھر میں نے آکر فوج کو حملہ کا حکم دیا ہے۔اس سے میں سمجھتا ہوں کہ پہلے ایک سرسری معائنہ حیدرآباد کا ضروری ہے۔میرے ساتھ ایک میری بیوی مریم صدیقہ لڑکی امتہ القیوم اور ہمشیرہ مبارکہ بیگم ہونگی۔چھ سات دوسرے ہمرا ہی ہونگے۔یہ لوگ ریل سے سفر کر کے بمبئی سے حیدرآباد پہنچیں گے۔میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا سفر صرف غیر رسمی رہے یعنی کوئی لیکچر وغیرہ یا شور نہ ہو۔اگر بعض خاص آدمیوں سے ملاقات کی ضرورت سمجھی گئی تو جماعت کے مشورہ سے میں ان کو ملنے کا موقع دے دوں گا اس سے زیادہ نہیں۔میرا پروگرام یہ ہو گا جس کے متعلق آپ مذکورہ دوستوں سے مشورہ کر کے تفصیلات طے کر لیں (۱) حیدرآباد کا موٹر میں ایک عام چکر جس سے اس کی عظمت ، اس علاقہ کی وسعت، آبادی کی طرز وغیرہ کا علم ہو جائے (۲) علمی اداروں کا دیکھنا (۳) تاریخی یادگاروں کا دیکھنا (۴) موجودہ ترقی یا جد و جہد کا معائنہ۔آپ اس مشورہ میں اگر چاہیں تو نواب اکبر یار جنگ صاحب کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ایک مجلس ایسی رکھی جاسکتی ہے جس میں سب جماعت کے دوست جمع ہوں اور میں انہیں مختصر ہدایات دوں۔جمعہ کا دن اس دوران میں آئے گا۔وہ لازماً میں مسجد میں پڑھوں گا اور جماعت سے ملاقات ہو جائے گی۔۔۔۔چونکہ مجھے مردوں کے ساتھ پھر نا ہو گا اس لئے عورتوں کی سیر کا الگ انتظام کر دیا جائے۔یعنی روزانہ پروگرام طے ہو کر پہلے بتا دیا جائے کہ عورتیں اپنا وقت اس طرح خرچ کریں گی اور میرا پروگرام اس اس طرح ہوگا۔