سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 301 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 301

279 کی تاریخ جرح کیلئے مقرر ہوئی ہے۔احباب کو اس تکلیف سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ ان کے مقابلہ میں جو انعامات اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے مقرر فرمائے ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر وہ انعامات انسان کے سامنے رکھ دیئے جائیں تو انسان یہی کہے گا کہ اے میرے رب ! میری تو صرف یہی خواہش ہے کہ میں زندہ کیا جاؤں اور پھر تیری راہ میں مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر تیری راہ میں مارا جاؤں ، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر تیری راہ میں مارا جاؤں اور یہ سلسلہ ہمیشہ کیلئے جاری رہے“ الحکم ۲۸۔مارچ ، ۷۔اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۷ ) تیسرے دن حضور احباب جماعت کے ہمراہ پیش ریل گاڑی کے ذریعہ تشریف لے گئے اور حضور نے تیسرے درجہ میں اپنے خدام کے ساتھ ہی سفر کیا۔گورداسپور میں اور دورانِ سفر احمدیوں کی فدائیت اور خلوص کے بڑے موثر نظارے دیکھنے میں آئے جن کی تفصیل بیان کرنا تو ممکن نہیں البتہ اس سفر کے متعلق اخباروں کے تبصروں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ احراریوں کے پیش نظر جو مقصد تھا اس میں نہ صرف یہ کہ وہ بُری طرح ناکام ہوئے بلکہ جماعت کی خوبیاں نمایاں ہو کر غیروں کے سامنے آئیں جن سے متاثر ہو کر قریباً ایک سو افراد کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ - سفر حیدر آباد دکن سندھ میں ذاتی اور جماعتی جائداد خریدنے کے بعد حضور قریباً ہر سال سندھ تشریف لے جاتے تھے بلکہ بعض دفعہ سال میں دو دفعہ بھی تشریف لے گئے۔۱۹۳۸ء میں سندھ کے سفر کے ساتھ حضور نے جماعتی اغراض سے حیدر آباد دکن تشریف لے جانے کا پروگرام بنایا۔اس سلسلہ میں حضور نے محترم سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے نام مندرجہ ذیل خط لکھا : - مکرمی سیٹھ صاحب ! وو اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مدت سے میرا ارادہ حیدر آباد آنے کا تھا کیونکہ میرے نزدیک کسی جگہ کو دیکھنے کے بعد وہاں کے کام کی اہمیت کا زیادہ اثر ہوتا ہے لیکن کچھ تو کم فرصتی کی وجہ سے اور کچھ وہاں کے سیاسی حالات کی وجہ سے اور کچھ //////