سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 293 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 293

271 تحقیق کے لئے مقرر کیا چنانچہ انہوں نے مجھے رپورٹ دی کہ واقع میں یہ روپیہ ہم سے ( تحریک نے ) لیا ہے۔مگر اب یہ بات مجھے تو یاد ہے مگر ان کو بھول چکی ہے۔انجمن کے حسابات سے اتنا پتہ لگتا ہے کہ تحریک کو یہ روپیہ دیا گیا اور میں بھی سمجھتا ہوں کہ اس روپیہ کی ادائیگی تحریک کے ذمہ ہے اگر مجھ سے گواہی لی جائے تو میری گواہی بھی یہی ہوگی کہ میں نے چوہدری برکت علی صاحب کو اس غرض کے لئے مقرر کیا اور انہوں نے خود مجھے آ کر کہا کہ میں نے حساب دیکھا ہے“ اللہ تعالیٰ نے حضور کو غیر معمولی حافظہ سے نوازا تھا اس کی بہت سی مثالیں ہم پڑھ چکے ہیں محترمہ صاحبزادی ناصرہ بیگم صاحبہ بھی بتاتی ہیں کہ :- ایک واقعہ مجھے کبھی نہیں بھولتا جب آپ بغرض علاج ۱۹۵۵ء میں یورپ تشریف لے گئے واپسی کے قریب میں نے قصرِ خلافت کی صفائی کروائی ایک کمرے میں حضرت ابا جان کے عطر کا سامان ہوتا تھا اس میں چار بڑی بڑی الماریاں بھی تھیں جو عطر کی شیشیوں سے بھری ہوئی تھیں۔میں نے کمرے اور الماریوں کی بھی صفائی کی کچھ عرصہ گزر جانے کے بعد ایک روز ابا جان فرمانے لگے ”بی بی تم نے میرے عطر کی شیشی گمادی ہے، میں نے پوچھا کون سی؟ فرمانے لگے فلاں کونے کی الماری کے فلاں خانے کے بائیں کونے میں کٹ ورک کی اس قسم کی شیشی تھی وہ اب وہاں نہیں۔میں حیران کہ میں نے تو صفائی اس طرح کی کہ ایک شیشی اٹھائی اس کو جھاڑ پونچھ کر وہیں رکھا پھر دوسری اُٹھائی اور اس کو بھی اسی طرح اسی جگہ رکھا۔میں اُٹھی کہ میں خود دیکھتی ہوں جس الماری جس کونے اور جس خانے اور جس شیشی کی آپ نے نشاندہی کی تھی میں وہ وہاں سے ہی اُٹھالائی۔دیکھ کر فرمانے لگے یہی شیشی تھی اور میں حیرت میں ڈوبی ہوئی یہ سوچتی رہی کہ اتنے عرصہ کی بات اور چیز بھی کوئی ایسی اہم نہیں تھی کہ نمایاں طور پر حافظہ میں محفوظ رہتی مگر یہ حافظہ خدا کا خاص انعام تھا قوت حافظہ کے تعلق میں مندرجہ ذیل واقعہ بھی دلچسپی کا باعث ہوگا: ” جب گاڑی کیمبل پور پہنچی تو سٹیشن پر نہ صرف کافی احمدی موجود تھے بلکہ غیر احمدی دوست بھی حضور کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔یہ سب