سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 291 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 291

269 پیش کر دیا جائے نہ یہ کہ دوبارہ پیش کرنے کے لئے ہفتے یا مہینے لگا دیئے جائیں۔۔اگر میں کسی کام کے متعلق کوئی ہدایت دوں کہ یہ کام اس طور پر کیا جاوے تو جو سمجھ میں آئے اس کے مطابق فوراً ہی اس کام کا خاکہ پیش کر دیا جائے تا کہ مجھے تسلی ہو کہ صحیح لائنوں پر یہ کام کیا جارہا ہے یا کچھ غلط نہی ہے اور اگر کوئی غلط نہی ہو تو اس کی فوراً اصلاح کر دی جائے۔ے۔اگر ملاقات کے لمبا ہو جانے کی وجہ سے نماز کا وقت آ جائے تو فوراً مجھے یاد دلا دیا جائے کیونکہ بعد میں مجھے اس احساس سے بہت تکلیف ہوتی ہے کہ احباب کو مسجد میں نماز کے لئے اس وجہ سے انتظار کرنا پڑا (الفرقان فضل عمر نمبر دسمبر ۱۹۶۵، صفحه ۶۱ ۶۲ ) اللہ تعالیٰ نے حضور کے سپر د غیر معمولی کام کیا تھا تو اس کے لئے غیر معمولی استعدادیں بھی عطا فرمائی تھیں۔واقعات کو یا د ر کھنے کے لئے حضور کا حافظہ غضب کا تھا۔اپنی اسی خدا داد خوبی کے متعلق حضور فرماتے ہیں :- ” میرا حافظہ اپنی ذات میں کمزور ہے میں کوئی لمبی چیز یا دنہیں کرسکتا میں نے کئی شاعروں کے شعر پڑھے ہیں لیکن شاید مجھے چھ سات شعر یاد ہوں قرآن کریم ہزاروں دفعہ پڑھا ہے لیکن جب ضرورت پڑے مجھے آیت کا آدھا ٹکڑا یاد رہتا ہے۔لیکن واقعات میں نہیں بھولا کرتا۔میرے پاس ڈاک آتی ہے بعض اوقات پرائیویٹ سیکرٹری دس دس پندرہ پندرہ دن کے بعض خطوط کا خلاصہ پیش کرتے ہیں اور میں کہہ دیتا ہوں کہ یہ بات غلط ہے اصل خط میں یہ بات نہیں اور جب وہ خط لایا جاتا ہے تو وہ واقعی غلط خلاصہ ہوتا ہے۔میرے ساتھ کام کرنے والے جانتے ہیں کہ جو واقعات سے تعلق رکھنے والا امر ہو اس کے متعلق خدا تعالیٰ نے مجھے غیر معمولی حافظہ دیا ہے ورنہ دوسری باتوں میں میرا حافظہ کمزور ہے۔ممکن ہے کہ ایک دن مجھے ذھول ہو جائے لیکن وہ بات میرے دماغ کی لائبریری میں محفوظ رہتی ہے اور وہ پھر باہر نکال دیتی ہے اور دو چار دن کے بعد مجھے وہ بات یاد آ جاتی ہے خطبہ جمعہ الفضل ۱۲۔جون ۱۹۵۲ء صفحہ ۵ ) مندرجہ ذیل مثال سے پتہ چلتا ہے کہ سالوں پرانی بات جو متعلقہ دفاتر کے کارکنوں کو بھی یاد