سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 19
19 مشاہدہ کیا۔آپ کی پُر نور شخصیت میں اخلاقی و روحانی تقویت دینے کی بے پناہ طاقت موجود ہے اور آپ کا بے پناہ کام کرنے کا جذبہ جو ہم نے آپ کے ساتھ کام کے دوران مشاہدہ کیا بہت زیادہ اثر انگیز چالیس سال بعد ہر رائل ہائی نس ڈیوک آف ویلز خلاف معمول نیو یارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں دیکھے گئے۔ان سے ایک مختصر سی ملاقات میں خاکسار نے انہیں دی گئی ایک کتاب تحفہ پرنس آف ویلز کی طرف توجہ دلائی اس پر انہیں بہت جلدی یاد آیا اور انہوں نے فوراً کہا کہ ” میں اس کتاب کو اب تک اپنے ساتھ رکھتا ہوں“۔حضرت صاحب کی خلافت کے ابتدائی ایام میں ملک کے سرکردہ علماء کا ایک گروہ جو جماعت کے تمام مخالف فرقوں کی نمائندگی کرتے تھے۔مشترکہ پلیٹ فارم سے عوام میں تقاریر کرنے کے لئے قادیان میں جمع ہوئے۔اس کا مقصد جیسا کہ قبل ازیں وسیع طور پر مشتہر کیا گیا تھا یہ تھا کہ جماعت احمدیہ کو جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دیا جائے چنانچہ اس کی وجہ سے اور خصوصاً لاء اینڈ آرڈر کے نکتہ نگاہ سے بھی سخت مشکل اور نازک صورتِ حال پیدا ہوگئی کیونکہ جلسہ کے پروگرام کچھ اس طرح سے ترتیب دیئے گئے تھے جس کے مطابق نواحی دیہات کے تخریب پسند عناصر کی بہت زیادہ حاضری متوقع تھی تقاریر بہر حال اشتعال انگیز تھیں۔مشتہر کردہ مقاصد میں ایک یہ بھی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لعش مبارک کو قبر کھود کر نکالا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ عام نعشوں کی بوسیدگی کے برخلاف یہ محفوظ ہے یا نہیں۔بعض علماء کے قول کے مطابق اگر آپ کی نبوت کا دعوی سچا ہے تو آپ کی نعش درست حالت میں ہوگی۔علماء کا یہ عقیدہ بعید از عقل و انصاف تھا۔دراصل اس نظریہ کو اس لئے پھیلایا گیا تھا تا کہ اسے مزار مبارک کی بلا روک ٹوک بے حُرمتی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کیا جائے۔یہ امر صاف ظاہر تھا کہ ایسی حرکت ہر احمدی کے لئے نا قابل برداشت ہوتی اور بے حرمتی کی اس شرمناک حرکت سے باز رکھنے کے لئے جماعت کا ہر فرد اپنے خون کے آخری قطرے تک مقابلہ کرتا۔اس قسم کے خوفناک اور نازک حالات میں انتظامیہ کی مدد