سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 18
18 صاحب مرحوم ، مولوی شیر علی صاحب مرحوم اور ہمارے معزز بھائی ماسٹر محمد دین صاحب پر مشتمل تھا۔ہم روزانہ نماز فجر کے بعد جبکہ ابھی سورج نمودار ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہوتا کام شروع کر دیتے تھے اور نماز عشاء تک ماسوائے کھانوں اور نمازوں کے وقفوں کے لگاتار جاری رکھتے۔ہم اس کمرہ میں کام کیا کرتے تھے جو مسجد مبارک کی چھت پر شمالی جانب سے کھلتا ہے۔کھانا حضور ایدہ اللہ کے گھر سے آتا تھا اور اسی کمرے میں کھلایا جاتا تھا جہاں ہم کام میں مصروف تھے۔ہم صرف نمازوں کے اوقات میں کمرے سے باہر نکلتے اور ایک دوسرے سے جدا ہوتے تھے۔یہ مجلس چند ضروری وقفوں کے علاوہ تقریباً سترہ (۱۷) گھنٹے روزانہ رہتی تھی۔میں محنت و سرگرمی اور انہماک کے وہ دو دن جو بیک وقت پر مسرت و پرسکون بھی تھے کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔صحبت بہت ہی ممتاز اور ارفع تھی جس کی کوئی شخص کبھی خواہش کر سکتا ہے۔باوجودیکہ کام بہت احتیاط طلب تھا لیکن اس کے علاوہ بہت پُر از معلومات اور نصیحت آموز بھی تھا، خوراک کے انتظامات سادے ہونے کے باوجود بہت اچھے اور تسلی بخش تھے۔حضرت صاحب کی بڑی صاحبزادی جو اس وقت دس برس کی بچی تھیں وہ کھانوں کی تیاری وغیرہ میں نگرانی فرماتی تھیں۔چنانچہ ان کا احساس ذمہ داری اور معصومانہ سنجیدگی و متانت ہر موقع اور ہر لمحہ عیاں تھی۔حضرت صاحب بذات خود گوہر تیزی سے گذرنے والے لمحے سے زیادہ سے زیادہ بہتر سے بہتر فائدہ حاصل کرنے کے لئے مضطرب تھے اور اس امر کا حصول آپ کیلئے آسان تھا لیکن اس کے باوجود آپ ہر ایک کے آرام کے لئے بہت متفکر رہتے تھے۔آپ نہ صرف اپنے عالی ظرف اور لطیف مزاح کے ذریعہ ہمیں مسرور رکھتے بلکہ خود بھی کام کی تکمیل میں ہماری مددفرماتے۔میں اپنے بارے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں اور ایسا ہی مجھے یقین ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا خیال ہوگا کہ ہر طویل دن کے اختتام پر ہم اسی طرح خوش و خرم باہر آتے جس طرح کام شروع کرنے کے وقت ہوتے تھے۔جب بھی مجھے حضرت صاحب کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا میں نے ہر دفعہ لطف و سرور کے احساس کا ایک عجیب تجربہ