سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 266
243 لاہور سے بار بار لکھتے ہیں یا فون کرتے ہیں کہ امانتیں جلدی بھجواؤ کیونکہ نبی کریم نے ہجرت کے بعد جلدی منگوالی تھیں۔میں امانت کے ٹرنک لے کر قادیان سے روانہ ہوا تو اتفاق سے جس بس پر میرے ٹرنک رکھے گئے تھے اسی میں ریسرچ والوں کے پانچ چھ ٹرنک بھی پڑے تھے۔راستہ میں ایک جگہ پر بسیں روک لی گئیں اور بکسوں کی چیکنگ شروع ہوگئی میں تو کانپ اٹھا الہی ! ہماری امانتوں کے بکسوں کے اندر لاکھ دو لاکھ روپے کی مہریں لگی ہوئی ڈبیاں اور تھیلے پڑے ہیں تو ان کو اگر کھول کر دیکھے گا تو ادھر ادھر ہو جانے سے میں کیسے سنبھال سکونگا مگر اسی اثناء میں ایک زرگر بنام روشن الدین صاحب میرے پاس آئے اور مجھے ایک پوٹلی دے کر کہنے لگے اس میں تین ڈلیاں سونے کی ہیں یہ آپ حکیم دین محمد صاحب کو لاہور میں دے دیں۔میں نے کہا کہ میں چونکہ امانت میں کام کرتا ہوں ہمیں کوئی چیز بغیر رسید دیے لینے کا کوئی حق نہیں ہوتا اور اگر بغیر رسید کے لے لیں تو ممکن ہے کوئی شخص الزام لگا دے تو الزام سے رہائی کی کوئی صورت نہیں اس لئے میں اسے نہیں لے سکتا لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ میں آپ کو جانتا ہوں آپ سے کوئی رسید نہیں مانگتا آپ لے جائیں۔ان کے اصرار کرنے پر اپنے چھوٹے سے کیش بکس میں وہ پوٹلی رکھ لی اتنے میں چیک کرنے والا ایک ڈوگرہ لفٹنٹ آ گیا۔ریسرچ کے صندوقوں کو چیک کرنے لگا اور وہ اتنی بے اعتباری کرتا تھا کہ کتابیں نکال نکال کر دیکھتا تھا کہ نیچے کوئی بندوق یا اسلحہ تو نہیں میں کانپ رہا تھا کہ خدانہ کرے یہ مشکل مجھے بھی پیش آئے۔جب وہ چار پانچ صندوق دیکھ چکا جن میں کتا بیں ہی کتابیں تھیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل کو کچھ ایسا پھیرا کہ ریسرچ کے صندوقوں کی طرح باقی صندوقوں کو بھی کتابوں کا سمجھ کر کہا جانے دو۔میرے کیش بکس کو دیکھ کر کہنے لگا کہ یہ کیا ہے۔میں نے سارا ماجرا بتایا۔اس نے سونے کی تین ڈلیاں اُٹھا کر دیکھیں اور دوبارہ وہیں رکھ دیں۔جب ہم نہر کے پل پر پہنچے تو شور پڑ گیا کہ سکھ کھڑے ہیں راستہ میں اندیشہ ہے کہ وہ بسیں نہ لوٹ لیں۔ہمارے انچارج سپاہیوں نے گنوں کو پوزیشن میں کیا تو انہوں نے گولی چلا دی۔چنانچہ اس طرف سے بھی فائز ہوا تو کئی سکھ مر گئے اور باقی بھاگ گئے۔اور ہم