سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 208
204 سلسلہ کے خادم کو تکلیف پہنچی۔ملاقات ہونے پر حضور نے پھر تفصیل سے اس غلط فہمی کا ذکر فر مایا اور ان کی دلجوئی فرمائی روایت ملک صلاح الدین صاحب) کسی کارکن کو اس کی غلطی پر سرزنش کرنے اور اصلاح کی خاطر سزا دینے کی نوبت آتی تو اس میں بھی ہمدردی اور محبت کا رنگ غالب ہوتا اور پتہ چلتا کہ آپ سزا اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھتے ہوئے دیتے تھے ویسے آپ دل کے علیم ہی تھے۔ایسا ایک واقعہ بطور مثال حضرت سیدہ مہر آپا کی زبانی پیش کیا جاتا ہے: - کوئٹہ میں ایک دفعہ دفتر کے عملہ میں سے ایک شخص سے کوئی غلطی اس طرح ہوئی جو ان کی لا پرواہی پر دلالت کرتی تھی۔اور کام کوئی اہم ہی تھا۔حضرت اقدس ان سے بذاتِ خود کھڑے باز پرس اور تحقیق فرمارہے تھے۔آپ نے ان کو غصے میں غالباً صرف اس قدر فرمایا اسی طرح کھڑے رہیں میں اس سے کوئی کام نہیں لوں گا۔یہ کہہ کر حضور خود اندر تشریف لے آئے اور آ کر اپنے کام میں حسب معمول مصروف ہو گئے۔آپ تقریبا ڈیڑھ دو گھنٹے مسلسل اسی طرح میز پر جھکے ہوئے کام کرتے رہے۔اس دوران میں اچانک بارش آئی اور موسلا دھار برسنے لگی مجھے کسی طرح سے پتہ چلا کہ عملے میں سے کوئی شخص جس پر کہ حضرت اقدس تھوڑی دیر ہوئی ناراض ہوئے وہ بارش میں کھڑے بھیگ رہے ہیں۔مجھے اس خیال سے پریشانی ہوئی لیکن دل میں یہ پورا یقین تھا کہ حضور کا اس قسم کا قطعاً کوئی آرڈر نہیں ہو گا۔غصے میں سرسری بات کہی ہوگی اور پھر کام میں مصروف ہو جانے کے بعد آپ کو یا دبھی نہیں رہا ہو گا۔میں بھاگی ہوئی حضرت اقدس کے پاس پہنچی، چائے کا وقت تھا ، ایک تو خود آپ کو چائے بھی دینی تھی دوسرے اس وقت بھیگتے ہوئے شخص کے متعلق بھی بھیگتے مجھے کچھ کہنا تھا۔میں نے آپ کی طرف چائے کی پیالی بڑھاتے ہوئے اس بھی ہوئے شخص کے متعلق تفصیلی بات کر دی اور پھر جلدی سے دریافت کیا کہ کیا میں اسے جلدی سے چائے بھیج دوں ؟ انہیں سردی لگ جائیگی اور کیا وہ اپنے کمرہ میں چلے جائیں؟