سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 181 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 181

177 اس بنیادی علمی ضرورت کے متعلق مزید اصولی ہدایات دیتے ہوئے حضور نے ایک اور موقع پرارشادفرمایا۔وو جیسا کہ جلسہ پر اعلان کیا گیا تھا فقہی مسائل پر یکجائی غور کرنے اور فیصلہ کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کی ایک کمیٹی مقرر کی جاتی ہے تمام اہم مسائل پر فتویٰ اس کمیٹی کے غور کرنے پر شائع کیا جائے گا ایسے فتاویٰ جب تک ان کے اندر کوئی تبدیلی نہ کی گئی ہو یا تنسیخ نہ کی گئی ہو جماعت احمدیہ کی قضاء کو پابند کرنے والے ہوں گے اور وہ ان کے خلاف فیصلہ نہیں دے سکے گی ہاں وہ ان کی تشریح کرنے میں آزاد ہوگی لیکن اگر وہ تشریح غلط ہو تو یہی مجلس فقومی دھندہ اس تشریح کو غلط قرار دے سکتی ہے۔ممبران کا اعلان سال بہ سال خلیفہ وقت کی طرف سے ہوا کرے گا اور ایک سال کے لئے ممبر نامزد کئے جایا کریں گے۔مناسب ہوگا کہ کچھ نہ کچھ ممبر اس میں سے بدلے جایا کریں تاکہ جماعت کے مختلف طبقوں کے لوگوں کی تربیت ہوتی رہا کرے۔خاص امور کے متعلق خلیفہ وقت اس انجمن کا اجلاس اپنی نگرانی میں کروائے گا لیکن عام طور پر یہ کمیٹی اپنا اجلاس اپنے مقررہ صدر کی صدارت میں کیا کرے گی لیکن اس کے فیصلوں کا اعلان خلیفہ وقت کے دستخطوں سے ہوا کرے گا اور ایسے ہی فیصلے سند سمجھے جایا کریں گے۔دستخط مرزا محمود احمد ۷-۱-۱۹۵۲ء عورتوں کی تعلیم کی طرف حضور کی غیر معمولی توجہ کے متعلق ہم پچھلی سطور میں پڑھ چکے ہیں۔۱۹۳۶ء میں آپ نے اس مقصد کو با قاعدہ آگے بڑھانے کے لئے نصرت گرلز ہائی سکول کے ساتھ د مینیات کلاسز کا اضافہ فرمایا اور ان کا نصاب خود تجویز فرمایا۔علامہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب ان کلاسوں کے ایک معلم اور نگران تھے۔اس انتظام سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے حضور نے حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اور قاضی محمد اسلم صاحب ایم۔اے کا کمیشن مقرر فرمایا تا ان کی سفارشات کی روشنی میں عورتوں کی تعلیم کے نظام کو زیادہ مفید اور وسیع کیا جاسکے۔۱۹۵۰ء میں جامعہ نصرت کے نام سے لڑکیوں کا کالج شروع فرمایا۔۱۴۔جون ۱۹۵۰ء کو