سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 180
176 کرنے اور ان کی رہنمائی کے لئے حضرت فضل عمر نے افتاء کمیٹی کا تقر ر فرمایا جس کے ابتدائی ممبر مندرجہ ذیل علماء تھے۔-1 حضرت مولانا سید سرور شاہ صاحب حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب حضرت مولانا ابوالعطا کصاحب قیام پاکستان کے بعد نومبر ۱۹۴۸ء میں اس کمیٹی کا احیاء مجلس افتاء کے نام سے ہوا اس کے ابتدائی ممبر مندرجہ ذیل علماء کرام تھے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب مکرم مولوی ابوالمنیر صاحب مکرم مولوی محمد احمد صاحب جلیل مکرم مولوی محمد رشید احمد صاحب شاد مکرم مولوی محمد احمد صاحب ثاقب حضور نے اس مجلس کے مندرجہ ذیل فرائض اور اغراض و مقاصد منظور فرمائے۔-1 فتوی کی غرض سے دفتر افتاء میں آمدہ اہم مسائل کے بارہ میں مفتی سلسلہ عالیہ احمدیہ کو مشورہ دینا۔۲- فقہ اسلامیہ کے اہم اختلافی مسائل کے متعلق ائمہ فقہ کی آراء اور ان کے دلائل سے واقفیت حاصل کرنا۔- -۳- سیاسی، تمدنی اور تاریخی حالات کی روشنی میں علم الخلاف کا مطالعہ خصوصی۔- دفتر افتاء کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ ہرا ہم فتویٰ کے متعلق مجلس کے کم از کم تین ممبران کا مشورہ حاصل کرے۔لیکن مفتی سلسلہ اس مشورہ کو قبول کرنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔البتہ اگر مجلس کے تمام ممبران متفق الرائے ہوں اور مفتی سلسلہ کو پھر بھی اس سے اختلاف ہو تو اس صورت میں دفتر افتاء پر واجب ہوگا کہ وہ تمام حالات حضرت خلیفتہ المسیح کی خدمت اقدس میں تحریر کر کے اس کے متعلق آخری فیصلہ حاصل کرے۔( الفضل ۷۔نومبر ۱۹۴۸ء صفحہ ۲ )