سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 179
175 کا جذ بہ پیدا کرنا اس کے مقاصد میں شامل تھا۔اس مجلس کو مجلس مذہب و سائنس کے لئے بطور نرسری قرار دیا گیا۔اس کے صدر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب مقرر ہوئے مجلس مذہب و سائنس بھی جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے جماعت میں اعلی علمی تحقیق کا ذوق وشوق پیدا کرنے کے لئے قائم فرمائی۔اس مجلس کے ابتدائی اجلاسوں میں دنیائے سائنس کی بعض نامور شخصیات نے تقاریر کیں۔اکثر اجلاسوں کی صدارت حضور نے خود فرمائی اور بیش قیمت ارشادات سے نوازتے اور رہنمائی فرماتے رہے۔اس کے علاوہ اور کئی مجالس مثلاً : - مجلس عمومی، مجلس ارشاد، بزم اردو، سائنس سوسائٹی ، مجلس علوم معاشرت ، مجلس تاریخ، مجلس حیاتیات، مجلس فلسفه و نفسیات، ریڈیو، فوٹوگرافک سوسائٹی علمی فروغ کے بلند مقصد کے حصول کے لئے قائم کی گئیں۔ان مجالس کے بلند معیار کی وجہ سے اس زمانہ کے چوٹی کے دانشور بڑے اشتیاق سے اپنے علمی مقالے اور تحقیقی مضامین پیش کرتے رہے۔ان علمی ہستیوں میں میاں افضل حسین صاحب وائس چانسلر، پروفیسر سراج الدین صاحب سیکرٹری محکمہ تعلیم مغربی پاکستان، جناب حماد رضاء صاحب کمشنر سرگودہا، جناب انور عادل صاحب سیکرٹری محکمہ تعلیم، جسٹس سجاد احمد جان صاحب حج عدالت عالیہ ، جسٹس انوار الحق صاحب چیف جسٹس، پروفیسر حمید احمد خاں صاحب ، مولا نا صلاح الدین احمد صاحب، ڈاکٹر ظفر علی شمسی صاحب، مولانا عبدالمجید سالک صاحب، جناب عبدالحمید صاحب وزیر تعلیم مغربی پاکستان صوفی غلام مصطفیٰ تبسم صاحب جیسے نابغہ روزگار بھی شامل تھے۔مسلمانوں کے دورانحطاط میں جو علمی جمود پیدا ہوا اور جس کے نتیجہ میں ذہنی فکری ترقیات کے دروازے بند ہو گئے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ مسلمان علماء نے عام آدمیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف اس وجہ سے توجہ نہ دی کہ اس طرح خود ان کی اہمیت کم ہو جائے گی یا ان کی کم علمی کا پردہ چاک ہو جائے گا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے یہ بند دروازے کھولے اور دنیا کو بتایا کہ قرآن ایک زندہ کتاب ہے اور اس بحر نا پیدا کنار کی غواصی کرنے والا آج بھی اس میں سے قیمتی و بیش بہا خزا نے حاصل کر سکتا ہے جس طرح قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں نے حاصل کئے تھے۔اس جمود و تعطل کو دور کرنے کے لئے اور جماعت کی فقہی ضروریات کو پورا