سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 171
167 دینی علوم کی ترویج و ترقی کے لئے مدرسہ احمدیہ کے نام سے ایک ادارہ حضرت مسیح موعود جامعہ احمدیہ علیہ السلام کے زمانہ میں ہی قائم ہو گیا تھا یہ ذکر پہلے ہو چکا ہے کہ اس ادارہ کو بعض سر بر آوردہ افراد جماعت نے بند کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے اس کی پوری شدت سے مخالفت کر کے اس ادارہ کونئی زندگی عطا فرمائی۔ایک وقت تک آپ اس ادارہ کے ہیڈ ماسٹر بھی رہے اور طالب علموں کی تعلیم و تربیت کی بہت اچھے انداز میں نگرانی فرماتے رہے۔مدرسہ احمدیہ کے مقاصد کو بہتر رنگ میں حاصل کرنے کے لئے ۱۹۲۸ء میں جامعہ احمدیہ کے قیام کا فیصلہ فرمایا اور پہلے پرنسپل حضرت مولاناسید سرور شاہ صاحب مقرر ہوئے جامعہ کی افتتاحی تقریب کے متعلق اخبار الفضل رقمطراز ہے:۔”ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی، بعض کو جرمنی ، بعض کو سنسکرت، بعض کو فارسی ، بعض کو روسی ، بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہئے 66 کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے۔“ الفضل ۱۴۔اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۴ ) جامعہ احمدیہ کی بنیا درکھتے ہوئے حضور نے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امید ہے کہ یہی چھوٹی سی بنیاد ترقی کر کے دنیا کے سب سے بڑے کالجوں میں شمار ہوگی " الفضل ۱۴ اگست ۱۹۲۸ ء صفحه ۵-۷ ) اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمنا اور دعاؤں کے مطابق اس ادارے کو بہت برکت عطا فرمائی اور اس ادارے کے فارغ التحصیل دنیا بھر میں کامیاب تبلیغی مساعی کرنے والے ثابت ہوئے مزید براں قادیان اور ربوہ کے علاوہ متعدد دیگر ممالک میں اس کی شاخیں ضوفگن ہیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ ۱۹۳۰ء میں جامعہ احمدیہ کی طرف سے ایک رسالہ نکالا گیا۔حضور نے اسے بہت مفید قرار دیا اور مضمون نگاری کے متعلق بعض رہنما اصول بیان کرتے ہوئے فرمایا :- ہر ایک کالج میں آج کل رواج ہے کہ اس کے طلباء اپنے تعلقات کو کالج سے مضبوط کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے نہ صرف اپنے لئے ایک میدان کار نکالتے ہیں بلکہ اس کے ذریعہ سے کالج کے پرانے طلبہ کا تعلق بھی کالج سے قائم رہتا ہے کیونکہ وہ اس میں مضمون لکھتے رہتے ہیں اور کالج کے حالات سے آگاہ رہتے ہیں۔پس اس لحاظ سے اس رسالہ