سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 165 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 165

161 اس کے بعد میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں کہ سب سے ضروری تعلیم دینی تعلیم ہے کس طرح سمجھاؤں کہ تمہیں اس طرف توجہ پیدا ہو۔اس زمانے میں خدا تعالیٰ کا مامور آیا اور اس نے چالیس سال تک متواتر خدا کی باتیں سنا کر ایسی خشیت الہی پیدا کی کہ مردوں میں سے کئی نے غوث، قطب ولی، صدیق اور صلحاء کا درجہ حاصل کیا۔ان میں سے کئی ہیں جو اپنے رتبہ کے لحاظ سے کوئی تو ابو بکر اور کوئی عثمان ، کوئی علی ، کوئی زبیر ، کوئی طلحہ ہے۔تم میں سے بھی اکثر کو اس نے مخاطب کیا اور انہیں خدا کی باتیں سنائیں اور ان کی بھی اسی طرح تربیت کی مگر تب بھی وہ اس رتبہ کو حاصل نہ کر سکیں۔اس کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم میں ایک صدیقی وجود کو کھڑا کیا مگر اس سے بھی وہ رنگ پیدا نہ ہوا، پھر خدا نے مجھکو اس مقام پر کھڑا کیا اور پندرہ سال سے متواتر درس اور اکثر وعظ ونصائح اور لیکچر میں دین کی طرف توجہ دلاتا رہا ہوں اور ہمیشہ یہی میری کوشش رہی ہے کہ عورتیں ترقی پائیں مگر پھر بھی ان میں وہ روح پیدا نہ ہوسکی جس کی مجھے خواہش تھی۔پچھلے دنوں میں نے یہاں کی عورتوں سے ایک سوال کیا تھا کہ تم کسی ایک عورت کا بھی نام بتاؤ جس نے قرآن کریم پر غور کر کے اس کے کسی نکتہ کو معلوم کیا ہو۔۔۔۔اس کی صرف یہ وجہ ہے کہ تم قرآن کو قرآن کر کے نہیں پڑھتیں اور نہیں خیال کرتیں کہ اس کے اندر علم ہے، فوائد ہیں، حکمت ہے بلکہ صرف خدائی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو کہ اس کا پڑھنا فرض ہے اس لئے اس کی معرفت کا دروازہ تم پر بند ہے۔دیکھو قرآن خدا کی کتاب ہے اور اپنے اندر علوم رکھتا ہے۔قرآن اس لئے نہیں کہ پڑھنے سے جنت ملے گی اور نہ پڑھنے سے دوزخ بلکہ فرمایا کہ فِيْهِ ذِكُرُكُمُ اس میں تمہاری روحانی ترقی اور علوم کے سامان ہیں۔قرآن ٹو نہ نہیں یہ اپنے اندر حکمت اور علوم رکھتا ہے۔جب تک اس کی معرفت حاصل نہ کرو گی قرآن کریم تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔تم میں سے سینکڑوں ہوں گی جنہوں نے کسی نہ کسی سچائی کا اظہار کیا ہو گا لیکن اگر پوچھا جائے کہ تمہارے اس علم کا ماخذ کیا ہے تو وہ ہرگز ہرگز قرآن کو پیش نہ کریں گی بلکہ ان کی معلومات کا ذریعہ کتابیں، رسائل، ناول یا کسی مصنف کی تصنیف ہوں گی اور غالباً ہماری جماعت کی عورتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی کتاب ہو گی۔تم