سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 162 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 162

158 ہمیشہ وہی ہوتا ہے جو ابتلاء کے بعد اپنے آپ کو ایسے رنگ میں تیار کرنا شروع کر دیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط اور باہمت ہو جاتا ہے۔ہمارے لئے جو ابتلاء آئے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک بہت بڑا تازیانہ ہیں کہ تم کیوں ایسی حالت میں بیٹھے ہوئے ہو کہ جب کوئی شخص چلا جاتا ہے تو تم کہتے ہو اب کیا ہوگا تم کیوں اپنے آپ کو اس حالت میں تبدیل نہیں کر لیتے کہ جب کوئی شخص مشیتِ ایزدی کے ماتحت فوت ہو جائے تو تمہیں ذرا بھی یہ فکر محسوس نہ ہو کہ اب سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا بلکہ تم میں سینکڑوں لوگ اس جیسا کام کرنے والے موجود ہوں۔ایک غریب شخص جس کے پاس ایک ہی کوٹ ہوا اگر اس کا کوٹ ضائع ہو جائے تو اسے سخت صدمہ ہوتا ہے لیکن ایک امیر شخص جس کے پاس پچاس کوٹ ہوں اس کا اگر ایک کوٹ ضائع بھی ہو جائے تو اسے خاص صدمہ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اسی طرح ہماری جماعت اگر روحانی طور پر نہایت مالدار بن جائے تو اسے کسی شخص کی موت پر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہو سکتی۔تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو، تم میں سینکڑوں فقیہہ ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں ، تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں دنیا کے ہر علم کے ماہر ہونے چاہئیں تا کہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہرفن کے ۴۹۹ عالم موجود ہوں اور تمہاری توجہ اس طرف پھرنے ہی نہ پائے کہ اب کیا ہوگا۔جو چیز ہر جگہ اور ہر زمانہ میں مل سکتی ہو اس کے کسی حصہ کے ضائع ہونے پر انسان کو صدمہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سینکڑوں چیزیں میرے پاس موجود ہیں۔۔۔۔۔فلاں عالم تو مرگیا اب کیا ہوگا یہ خیال اسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجودوں کو نا در بنے دیتے ہیں اور ان جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں وجود اور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔۔۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ تم نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی