سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 134 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 134

134 جرات و بہادری پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہوئے حضور نہایت پر حکمت انداز میں فرماتے ہیں : - و تم مت سمجھو کہ احمدیت کی فتح اسی طرح ہوگی کہ ایک احمدی یہاں سے ہوا اور ایک وہاں سے یہ تو ایسی ہی جنگ ہے جیسے بڑی جنگ سے پہلے ہراول دستوں سے چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہو جایا کرتی ہیں۔ان معمولی ہراول دستوں کی جنگوں کو بڑی جنگ سمجھنا غلطی ہے۔ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب احمدیت کو دوسرے تمام مذاہب کے مقابلہ میں ڈٹ کر مقابلہ کرنا پڑے گا۔تب دنیا کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا اور تب دنیا کو معلوم ہوگا کہ کونسا مذ ہب اس کی نجات کے لئے ضروری ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ یہ تلوار کی جنگ ہوگی مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ یہ مضبوط دلوں کی جنگ ہوگی اور دلوں کی مضبوطی اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک انسان خطرات میں اپنے آپ کو ڈالنے کے لئے تیار نہ ہو جائے۔پس ہر جگہ جہاں کوئی شخص ڈوب رہا ہو وہاں ایک احمدی کو سب سے پہلے کو دنا چاہئے اس لئے بھی کہ وہ مسلمان یا سکھ یا عیسائی یا ہندو اس کا ایک بھائی ہے جس کو بچانا اس کا فرض ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات و بہادری پیدا ہو۔ہر جگہ جہاں آگ لگی ہو وہاں ایک احمدی کو اس آگ کو بجھانے کے لئے سب سے پہلے پہنچنا چاہئے اس لئے بھی کہ جس گھر کو آگ لگی ہے وہ خواہ مسلمان ہے یا ہندو ہے یا سکھ ہے یا عیسائی ہے بہر حال اس کا ایک بھائی ہے اور اس لئے بھی کہ اس کے نفس کو آگ میں کودنے کی مشق ہو اور جرات و دلیری اس کے اندر پیدا ہو۔اسی طرح ہر جنگ جو وطن کی حفاظت کے لئے لڑی جائے اس میں ایک احمدی کو سب سے پہلے شامل ہونا چاہئے اس لئے بھی کہ وطن کا حق ہے کہ اس کی حفاظت کے لئے جان دی جائے اور اس لئے بھی کہ اس کے اندر جرات و بہادری پیدا ہو اور جب شیطان کی جنگ خدا تعالیٰ کی فوج کے ساتھ ہو تو اس وقت وہ اس جنگ میں خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہو۔جو شخص آج اپنے آپ کو اس رنگ میں تیار نہیں کرتا ، جوشخص آج اپنے نفس کی اس طرح تربیت نہیں کرتا، جو شخص آج اپنے اندر یہ جرات و دلیری پیدا کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا کل اس