سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 123 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 123

123 سفارش کروانے آ جاتے ہیں۔میں نہ صرف یہ کہ پیغام نہ دوں گی بلکہ آپ سے ملنے کی بھی روادار نہیں ہوں“ خلیفہ شجاع الدین صاحب مایوس ہو کرسید ھے دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں گئے اور وہاں سے کوشش کی۔کچھ وقت گزرنے کے بعد حضوراقی جان کے ہاں تشریف لائے اور کہنے لگے۔د تمہیں معلوم ہے کہ خلیفہ شجاع الدین صاحب آئے ہوئے ہیں، وہ کھانا میرے ساتھ کھائیں گے۔اکرام ضیف کے طور پر مزید ایک دو ڈش تیار کر دو امی جان نے کہا۔مجھے معلوم ہے کہ وہ آئے ہوئے ہیں مگر میں نے انہیں جواب دے دیا ہے“ اس پر حضور نے فرمایا۔تم نے تو اپنی غیرت کا اظہار کر دیا ہے مگر اب وہ میرے مہمان ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ و آلہ وسلم نے مہمان کی بڑی عزت رکھی ہے۔وہ گالیاں دے کر اپنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں ، میں نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چل کر اپنے ( ملت کا فدائی صفحہ ۳۲٬۳۱) اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے“ شیعوں سے حسن سلوک قادیان سے باہر کسی جگہ سنی مسلمانوں نے شیعوں کا تعزیہ رکنے کے لئے احمدیوں کو بھی تعاون کرنے کی درخواست کی حضور سے اس بارہ میں استفسار کیا گیا تو حضور نے کسی کی مذہبی رسوم عبادات میں دخل اندازی سے منع کرتے ہوئے فرمایا :- ہمیں اس سے کیا کوئی کچھ کرے یہ نا جائز ہے کہ کسی کی مذہبی رسوم کو بند کرانے کی کوئی کوشش کرے۔اگر شیعوں کا تعزیہ بند کرانے کی وہ آج درخواست کرتے ہیں تو کل وہ آپ کی نماز کے بند کرانے کی کوشش کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس بات میں آزادی ہے جس عبادت کو کوئی درست اور سچا سمجھ کر کرے۔۔66 ( الفضل یکم جنوری ۱۹۲۳ء صفحه ۶) شیخ غلام محمد سے حسن سلوک مکرم چوہدری محمد اسد اللہ خاں صاحب راوی ہیں کہ :-