سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 109 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 109

109 مولوی صاحب کے ۶ یا ۷ سال اور بڑھ گئے۔وو اس واقعہ کے گواہ ہندو سکھ اور غیر احمدی موجود ہیں۔“ الفضل ۲۹۔جولائی ۱۹۴۲ء صفحه ۴ ) بے نور آنکھوں میں نو ر آ گیا“ کے عنوان سے قبولیت دعا کے ایک غیر معمولی نشان کا ذکر الفضل اخبار میں مورخہ ۵ ستمبر ۱۹۴۴ء میں اس طرح مذکور ہے :- لمصل ” میرے آقا سید نا واما منا حضرت امصلح موعود السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اللہ تعالیٰ آپ پر ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے اور اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ تادیر ہمارے سروں پر رکھے اور آ پکی ذات والا صفات ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے رکھے۔پہلے اس عاجز کو بالکل نظر نہیں آتا تھا یہاں تک کہ دن اور رات کا پتہ نہ چلتا تھا اور جب یہ عاجز کھانا کھانے لگتا تو لقمہ تھالی کی بجائے زمین پر لگ جاتا۔میرے والد بزرگوار بہت جگہ علاج کے لئے گھومے مگر سب کے سب ڈاکٹروں نے جواب دیدیا کہ اب اس بچے کی آنکھیں بالکل بند ہو گئی ہیں۔ان میں بنگہ اور پھگواڑہ کے مشہور ڈاکٹر بھی تھے اس پر میرے والد صاحب مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ان کو کشفی طور پر دکھایا گیا کہ جس کی دعا سے یہ لڑکا پیدا ہوا ہے اس کی دعا سے شفاء پائے گا۔اس کے بعد میرے والد صاحب نے بہت سے خط (پوسٹ کارڈ۔ناقل ) لیکر رکھ لئے اور ہر روز حضور کی خدمت اقدس میں ارسال کر دیا کرتے۔آخر خداوند کریم نے رحم فرمایا اور اب یہ عاجز اپنے ہاتھ سے یہ خط لکھ رہا ہے۔اور رات کو لیمپ کی روشنی میں پڑھ لیتا ہے۔آپ کے ادنیٰ خادموں میں سے خادم۔صالح محمد احمدی ولد چوہدری فتح محمد ساکن مہیا ن ضلع ہوشیار پور ایک خاتون قبولیت دعا کا ایک نہایت ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے بھتی ہیں :- میں ایک سخت خطرناک بیماری میں عرصہ چار ماہ سے مبتلا تھی۔پہلے تو معمولی سمجھ کر معمولی علاج کیا آخر مرض بڑھ گیا پھر پوری کوشش سے علاج کیا مگر بالکل افاقہ نہ ہوا بلکہ مرض اور بھی بڑھتا گیا آخر مایوس ہو کر علاج چھوڑ دیا۔