سوانح فضل عمر (جلد پنجم)

by Other Authors

Page 89 of 643

سوانح فضل عمر (جلد پنجم) — Page 89

89 میں نے اپنے لڑ کے علی محمد صاحب کو آئی۔سی۔ایس کے لئے لنڈن روانہ کیا۔وہاں ان کو پہلے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرنا ضروری تھی۔مگر ایم۔اے میں اس قدر دیر ہو گئی۔کہ I۔C۔S کے لئے موقع نہ رہا۔ایم۔اے کے سات مضامین میں سے چھ تو انہوں نے پاس کر لئے مگر آخری مضمون Constitutional Law of Constitutional History میں فیل ہو گئے اور آخر بے دل ہو کر واپس آنا چاہتے تھے۔ان کو سات سال کا عرصہ ہو گیا تھا۔میں نے حضرت ( خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) سے ان کو واپس بلانے کی اجازت چاہی مگر حضور نے فرمایا میں نے خواب میں ان کا نام پاس ہونے والوں کی فہرست میں دیکھا ہے۔اس لئے انشاء اللہ یقیناً پاس ہو کر آئیں گے۔میں نے ان کو یہ کیفیت لکھی اور پھر کوشش کرنے کے لئے کہا۔انہوں نے پھر ایک بار کوشش کی مگر پھر فیل ہو گئے۔ان کے استاد کو جب معلوم ہوا کہ پھر فیل ہو گئے ہیں تو اس نے تحقیق کی۔معلوم نہیں خدا تعالیٰ کا وہاں کیا کرشمہ ہوا کہ ایک دو روز میں ان کو یو نیورسٹی کی طرف سے اطلاع ملی کہ آپ کے فیل ہونے کی خبر غلط تھی۔آپ پاس ہیں وہ بہت خوش ہوئے اور سمجھ گئے کہ یہ محض خدا تعالیٰ نے اپنے خلیفہ کا خواب پورا کر کے ان پر فضل کیا ہے۔انہوں نے خدا تعالیٰ کا بہت بہت شکر ادا کیا اور ڈگری حاصل کر کے چونکہ حج کا موقع تھا اس لئے واپس ہوتے ہوئے حج کر کے الحاج علی محمد ایم۔اے بنکر آئے الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ (۴) ہمارے مکرم دوست جناب سید بشارت احمد صاحب جو جماعت احمد یہ حیدر آباد دکن کے امیر ہیں کے ماموں نواب غوث الدین صاحب تھے۔ان کے لاؤلد فوت ہو جانے پر سید صاحب اپنی والدہ صاحبہ کی جانب سے منجملہ اور ورثاء کے نواب صاحب کی اسٹیٹ کی تقسیم وغیرہ کے متعلق مختار و مجاز تھے۔ان کی ایک بلڈ نگ نواب پال کے نام کی بمبئی میں تھی۔سید صاحب موصوف نے معہ دیگر ورثا ء ہم سے اس بلڈنگ کی فروخت کے متعلق معاملہ شروع کیا۔ہم نے اپنے بمبئی والے رشتہ دار کے ذریعہ اس کے متعلق دریافت کر کے سوا لاکھ روپیہ میں خرید لی۔اس خرید میں ہمارے بمبئی والے رشتہ دار اور ہمارے