سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 66 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 66

ایک مأمور من اللہ تھے۔دونوں ایک ہی منبع سے علم حاصل کرنے والے تھے۔ایک ہی قسم کا کام ان کے سپرد تھا لیکن ایک کو جب کہا جاتا ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں تو وہ یہ جواب دیتا ہے کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا اور خدا تعالیٰ کی تقدیر یہی ہے کہ میں ہیں مارا جاؤں اگر میں یہاں سے نکلتا ہوں تو خدا تعالیٰ کے منشاء کے خلاف کرتا ہوں۔لیکن دوسرے شخص یعنی حضرت مسیح علیہ اسلام کو جب سزا کا حکم سنایا جاتا ہے تو آپ فرماتے ہیں میں کوشش کروں گا۔کہ یہاں سے نکل جاؤں اور کسی اور جگہ چلا جاؤں۔یہ واقعات اس طرح کیوں ہوئے۔کیا سقراط جھوٹا تھا یا کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے ایک خطرناک غلطی کی اور اپنے آپ کو تقدیر الہی سے بچانے کی کوشش کی؟ حقیقت یہ ہے کہ سقراط اس شہر کی طرف مبعوث تھا جس کے رہنے والوں نے آپ کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔سقراط ان جگہوں کے لئے مبعوث نہیں تھا جن کی طرف بھاگ جانے کے لئے اسے اس کے شاگرد مجبور کرتے تھے۔سقراط دوسری قوموں کی طرف مبعوث نہیں تھا۔لیکن مسیح علیہ السلام کو یہ کہا گیا تھا کہ تم بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں تک بھی میرا یہ پیغام پہنچاؤ۔اور یہ بھیڑیں ایران ، افغانستان اور کشمیر میں بھی بستی تھیں۔سقراط اگر اپنے شہر کو چھوڑتا تھا تو وہ ایک مکتب اور مدرسہ کو چھوڑتا تھا جس کے لئے اسے مقرر کیا گیا تھا۔مثلا ایک لوکل سکول میں کسی کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا جاتا ہے تو وہ اس سکول کو بلا اجازت نہیں چھوڑ سکتا۔اگر اس سکول کو بلا اجازت چھوڑے گا تو وہ مجرم ہو گا لیکن ایک انسپکٹر کو اپنے حلقہ میں کسی جگہ پر جانا پڑ تا ہے تو وہ بلا اجازت کسی دوسری جگہ چلا جاتا ہے اور ایک لوکل سکول کا ہیڈ ماسٹر کسی دوسری جگہ نہیں جاتا۔جب تک وہ اپنے بالا افسر سے چھٹی حاصل نہیں کر لیتا لیکن ایک انسپکٹر بغیر اجازت افسر بالا کے اپنے حلقہ کا دورہ کرتا ہے۔ایک ہیڈ ماسٹر کو یہ کہا جاتا ہے کہ تم اگر اپنی جگہ کو چھوڑ کر دوسری جگہ گئے تو مجرم ہو گے لیکن انسپکٹر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو اسے کوئی شخص مجرم نہیں گردانتا اس لئے کہ اس کا دائرہ عمل اس حد تک وسیع ہے لیکن ایک ہیڈ ماسٹر کا دائرہ عمل ایک سکول تک محدود ہے اور وہ اگر اس سے نکلتا ہے تو قانون کو توڑتا ہے۔پس سقراط ایک شہر کی طرف مبعوث کیا گیا تھا۔اس کا دائرہ عمل محدود تھا۔اگر وہ اس شہر کو چھوڑتا تو گنہگار ہو تا کیونکہ اس کے مخاطب اسی شہر کے باشندے تھے لیکن