سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 64 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 64

انہوں نے کہا اے میرے شاگر را تم بتاؤ تو سہی میں تمہیں اس حکومت کے بارہ میں جس کے ماتحت تم رہتے ہو۔کیا تعلیم دیا کرتا تھا۔فریتو نے کہا آپ ہمیں یہی تعلیم دیا کرتے تھے کہ اس حکومت کا ہمیشہ فرمانبردار رہنا چاہئے۔سقراط نے کہا اب تم ہی بتاؤ کہ میں اس چیز کی ساری عمر تعلیم دیتا رہا۔اب اگر میں موت کے ڈر سے اس ملک سے بھاگ جاؤں تو دنیا یہی کے گی ناکہ میں یہاں کی زندگی میں جھوٹے دعوی کیا کرتا تھا پھر تم ہی بتاؤ کہ کیا حکومت ظالم ہے جس کی وجہ سے ہمیں اس ملک سے نکلنا اور اس کے قانون تو ڑنا جائز ہے ؟ دنیا کی کوئی حکومت اپنے آپ کو ظالم نہیں کہتی۔اگر میں یہاں سے پوشیدہ کسی اور ملک میں بھاگ جاؤں تو میری بات دوسروں پر کیا اثر کرے گی۔ہر ایک یہی کہے گا کہ یہ تو وہی بات ہے جس پر اس نے خود عمل نہیں کیا۔میں اس حکومت میں پیدا ہوا اور دعویٰ کے بعد چالیس سال تک اس ملک میں رہا۔کیا چالیس سال کے عرصہ میں میرے لئے اس ملک کو چھوڑ جانے کا موقع نہ تھا۔حکومت یہ کہے گی کہ اگر ہم ظالم تھے تو یہ چالیس سال کے دوران کیوں باہر نہیں چلا گیا۔بلکہ یہ تو ہمارے انصاف کا اتنا قائل تھا کہ یہ شہر سے باہر بھی نہیں نکلتا تھا۔میں ان باتوں کا کیا جواب دوں گا۔غرض اس نے ایک لمبی بحث کے بعد کہا۔خلاصہ یہ ہے کہ میں نہیں رہوں گا اور حکومت کے مقابلہ کیلئے تیار نہیں ہوں گا۔”جیسا کہ میں نے بتایا ہے سقراط کا یہ دعویٰ تھا کہ اسے الہام ہوتا ہے اور اس نے اپنے الہام کی ایک معین صورت کو پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ جہاز آج نہیں پہنچے گا کل پہنچے گا۔میرے خدا نے مجھے کہا ہے کہ تمہارے لئے جنت کے دروازے پر سوں کھول دیئے جائیں گے۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ شخص خدا تعالیٰ سے تائید حاصل کرنے والا تھا۔اس نے اپنی جگہ سے نکلنے کا نام نہیں لیا۔ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں قادیان سے کیوں باہر نکلا۔وہ کہتے ہیں کہ ہمیں قادیان سے نکلنا نہیں چاہئے تھا۔اور میں نے خود بھی کہا تھا کہ میں قادیان سے نہیں نکلوں گا۔بلکہ میں نے بتایا ہے کہ سقراط جو ایک مامور من اللہ تھا اس کی زندگی میں بھی ایک واقعہ پیش آیا اور اس نے اپنے شہر سے نکلنے سے انکار کر دیا۔جیسا واقعہ سقراط کو یونان میں پیش آیا تھا ویسا ہی واقعہ مجھے قادیان میں پیش آیا۔