سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 60
1 ۶۰ جماعت کے باہم رابطہ اور بیرونی جماعتوں اور دوسرے لوگوں کو حالات سے باخبر رکھنے کیلئے بلا توقف خصوصی بلیٹن جاری کئے جاتے رہے۔اس طرح کچھ عرصہ تک مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ریڈیو پاکستان لاہور سے قادیان کے متعلق خبریں نشر کرتے رہے تاہم باقاعدہ اخبار کی ضرورت کے پیش نظر حضرت فضل عمر کی خصوصی ہدایات کے مطابق مکرم شیخ روشن دین تنویر صاحب مکرم شیخ خورشید احمد صاحب اور احمد حسین صاحب (خوش نویس) ۹۔ستمبر کو قادیان سے آنے والے ایک کانوائے میں لاہور پہنچ گئے۔کافی بھاگ دوڑ اور محنت کے بعد ۱۵۔ستمبر ۱۹۴۷ء سے روزنامہ الفضل اخبار لاہور سے شائع ہونا شروع ہوا۔اخبار کے ڈیکلریشن کا حصول، مناسب عملہ کی تلاش ، دفتر کی جگہ چھاپنے کیلئے پریس کا انتظام اور ان سب امور کے اخراجات کا انتظام وغیرہ بہت ہی مشکل بلکہ ان حالات میں ناممکن نظر آتا تھا۔مگر جس طرح ۱۹۱۳ء میں الفضل خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت اور حضرت فضل عمر کے عزم و ہمت کا نشان بن کر ابھرا تھا اس دور ثانی میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت فضل عمر کے عزم و ہمت سے ناممکن کام ممکن ہو گئے اور احمدیت کے باغ کو سرسبز کرنے والی واحد نہر - الفضل۔خدائی منشاء و مشیت کی تکمیل میں رواں ہو گئی۔۔غیب سے فضل کے سامان ہوئے جاتے ہیں مرحلے سارے ہی آسان ہوئے جاتے ہیں مصلح موعود) قادیان سے الفضل کا آخری پرچہ (لوکل پرچہ )۱۷۔ستمبر۷ ۱۹۴ء کو شائع ہوا تھا۔ہجرت کا فلسفہ و حکمت ضروری معلوم ہو تا ہے کہ یہاں حضور کے الفاظ میں اس اہم سوال کا بھی جواب دیا جائے کہ قادیان سے ہجرت کیوں اور کن حالات میں اختیار کی گئی۔آپ فرماتے ہیں۔اب میں اپنے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔مگر اس سے پہلے آپ لوگوں کو ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں۔آج سے قریباً ۲۳۔۲۴ سو سال پہلے کی بات ہے یونان میں ایک شخص ہوا کرتا تھا وہ یہ تعلیم دیا کرتا تھا کہ خدا ایک ہے۔اور وہ دیویاں اور بت جن کے لوگ معتقد ہیں باطل ہیں۔ہاں خدا تعالیٰ کے فرشتے موجود ہیں اور کائنات کے مختلف کام ان کے سپرد ہیں۔وہ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنی مرضی اپنے نیک بندوں پر ظاہر کرتا ہے اور اس کے فرشتے اس کے نیک بندوں پر جلوہ گر ہوتے ہیں اور ان سے