سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 56
۵۶ جس کے سپرد باہر کا انتظام تھا۔مجھے فون کیا کہ تمام انتظامات فیل ہو گئے ہیں۔ایک بدھ فوجی افسر نے کہا تھا کہ خواہ مجھے سزا ہو جائے میں ضرور کوئی نہ کوئی انتظام کروں گا اور اپنی گار د ساتھ روانہ کروں گا لیکن عین وقت پر اسے بھی کہیں اور جگہ جانے کا آرڈر آگیا اور اس نے کہا میں اب مجبور ہوں اور کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتا۔آخر گیارہ بج کر پانچ منٹ پر میں نے فون اٹھایا اور چاہا کہ ناصر احمد کو فون کروں کہ ناصر احمد نے کہا میں فون کرنے ہی والا تھا کہ کیپٹن عطاء اللہ یہاں پہنچ چکے ہیں اور گاڑیاں بھی آگئی ہیں۔چنانچہ ہم کیپٹن عطاء اللہ صاحب کی گاڑیوں میں قادیان سے لاہور پہنچے۔یہاں پہنچ کر میں نے پورے طور پر محسوس کیا کہ میرے سامنے ایک درخت کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا نہیں بلکہ ایک باغ کو اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانا ہے۔ہمیں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ فوراً ایک نیا مرکز بنایا جائے اور مرکزی دفاتر بھی بنائے جائیں۔" (الفضل ۳۱۔جولائی ۱۹۴۹ء) ۳۱۔اگست ۱۹۴۷ء کو حضور قادیان سے لاہور کیلئے روانہ ہوئے۔۳۰۔اگست الوداعی پیغام کو آپ نے جماعت احمدیہ قادیان کو اس امر سے آگاہ کرنے اور اپنے سفر کی اہمیت اور جماعتی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے کیلئے مندرجہ ذیل ولولہ انگیز پیغام تحریر فرمایا۔یہ پیغام حضور کے بخیریت لاہور پہنچنے کی اطلاع کے ساتھ ساتھ قادیان کی مساجد میں پڑھ کر سنایا گیا۔اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی تمام پریذیڈنشان انجمن احمد یہ قادیان و محلہ جات و دیهات ملحقه قادیان و دیهات تحصیل بٹالہ و تحصیل گورداسپور کو اطلاع دیتا ہوں کہ متعد د دوستوں کے متواتر اصرار اور لمبے غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام امن کے اغراض کے لئے مجھے چند دن کے لئے لاہور جانا چاہئے کیونکہ قادیان سے بیرونی دنیا کے تعلقات منقطع ہیں اور ہم ہندوستان کی حکومت سے کوئی بھی بات نہیں کر سکتے حالانکہ ہمارا معاملہ اس سے ہے۔لیکن لاہور اور دہلی کے تعلقات ہیں۔تار اور فون بھی جاسکتا ہے۔ریل بھی جاتی ہے اور ہوائی جہاز بھی جاسکتا ہے۔میں مان نہیں سکتا کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو صاحب پر یہ امر کھولا