سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 502 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 502

۵۰۲ لوگوں میں سے ایک صاحب نے مدرسہ ہائی سکول کی طرف ہاتھ اٹھا کر کہا تھا کہ عمارتیں ہم نے بنائی تھیں اور ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے مگر اب جماعت نے غلطی کی جو اس نے ایک بچہ کو خلیفہ بنا لیا اب ہم تو یہاں سے جاتے ہیں مگر ابھی دس سال نہیں گذریں گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہو جائے گا مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب چھبیس سال گذر چکے ہیں اور ہمارا ان عمارتوں پر پہلے سے بھی زیادہ قبضہ ہے۔عمارتیں بنتی ہیں اور بگڑتی ہیں اور سوائے ایسی عمارتوں کے جو خدا تعالیٰ کے خاص نشانوں میں سے ہوں جیسے خانہ کعبہ وغیرہ باقی عمارتیں ایسی نہیں ہوتیں کہ ان کا کسی وقت کسی جماعت کے قبضہ سے نکل جانا کوئی قابل اعتراض بات ہو سوال جماعتی ترقی کا ہوتا ہے اور وہ ہمیشہ ہی ہمیں حاصل رہی ہے۔" الفضل ۵ اپریل ۱۹۴۰ء) اس موضوع پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔اس وقت موجودہ صورت میں وہ کام جو ۲۵ سال میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اور ان کے بعد 4 سال تک حضرت خلیفۃ المسیح نے کیا تھا خطرہ کی حالت میں ہے۔ایک جماعت جو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے میں کوئی فرق نہیں کرتی ان کے مد نظر ہے کہ مقابل والوں کو شکست دے دیں۔وہ زور لگا رہے ہیں وہ اپنے علم اور طاقت کو اس مقصد کے لئے صرف کر رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک طاقت ہیں اور ہم یہ کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں میں کہتا ہوں کہ ہم بالکل ناتواں ہیں۔ہاں ہمارا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہے وہ بڑی طاقتوں اور قدرتوں والا ہے وہ اپنے سلسلہ کو ہر ایک شر اور ضرر سے بچا سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ بچائے گا۔" (الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۳۱ء) ہے سفر دور کا منزل ہے کٹھن جاں ہے نحیف اس تلاطم میں الہی تیرے محمود کی خیر انکار خلافت کے متعلق مختلف وقتوں میں اٹھنے والے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔" تم جانتے ہو کہ کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے سر نکالا اور جماعت میں انہوں نے بغاوت کی۔پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ کس کس طرح تم ان فتنوں کو دیکھ کر کانپ اٹھے تھے