سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 41
اور ایثار ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا تو اس وقت تک ہماری جماعت ترقی نہیں کر سکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مومنوں میں لکھے جاسکتے ہیں۔یا د رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔۔۔۔۔ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعود پر ایمان لاتا ہوں، ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں خدا کے حضور اس کے دعوؤں کی کوئی قیمت نہ ہو گی ، جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لحہ بسر نہیں کرتا وہ کسی قسم کی بڑائی اور فضیلت کا حق دار نہیں ہو سکتا۔" الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۴۶ء) ان دنوں تمام جماعت کو چاہئے کہ خصوصیت کے ساتھ دعاؤں میں لگ جائے کہ اللہ تعالیٰ ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے انصاف سے پیش آنے کی توفیق دے اور ہر ایک قوم دوسری قوم کے متعلق عفو در گذر سے کام لے تاکہ ہمارا ملک کامل آزادی کا منہ دیکھ سکے اور تبلیغ کے لئے جو آسانیاں اور سہولتیں اب ہمیں میسر ہیں ان میں جھگڑے اور فساد کی وجہ سے کوئی روک نہ واقع ہو جائے۔۔۔۔۔رو رو کر دعائیں کرو تاکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ہندوستان کو لڑائی اور جھگڑے سے بچائے اور تمہاری دعائیں لوگوں کے دلوں میں تبدیلی کا باعث بن جائیں اور ان کے دلوں کی میل دھودی جائے۔۔۔پس ایسے طور سے خشوع و خضوع کے ساتھ دعائیں کی جائیں کہ اللہ تعالیٰ کا عرش ہل جائے اور اس کے فرشتے ہماری تائید میں لگ جائیں اور جس کام کو دوسری طاقتیں نہیں کر سکتیں ہم اسے کر لیں۔" الفضل ۱۹ مارچ ۱۹۴۷ء) آنے والے مشکل حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لئے ایک نہایت مفید اور مؤثر طریق تجویز کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمان اپنے اندر ایک دوسرے کی ہمدردی کا جذبہ پیدا کرتے کی اور جہاں کہیں کسی مسلمان کو دکھ پہنچتا وہ جتھوں کی صورت میں اس کے پاس پہنچتے اس لدا