سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 456 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 456

۴۵۶ دامن پر اس کا دھبہ بھی گوارا نہیں کرتا۔" (ارشادات مجلس مشاورت صفحه ۲۷) اسی اہم مقصد کی طرف بڑے مؤثر رنگ میں توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔اے خدا کے بند و خدا تعالیٰ نے تمہیں بڑی غرض کیلئے پیدا کیا ہے۔ان باتوں کو چھوڑ دو جو اس غرض سے دور لے جانے والی ہیں۔محبت پیار اور خدا کا خوف دلوں میں پیدا کرد که انہی چیزوں سے خدا مل سکتا ہے۔انہی سے انسانوں کے دلوں پر اثر ہو سکتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ بندہ سچا ہے تو اس کا سچ اس کے کام آئے گا لیکن اگر یہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ ہی اسے تباہ کر دے گا۔سچائی ہمیشہ اپنے لئے آپ رستے نکال لیتی ہے اور جھوٹ کو خواہ کتنا بھی کھڑا کرنے کی کوشش کی جائے وہ کبھی کھڑا نہیں رہ سکتا جھوٹ کبھی غالب نہیں آسکتا۔(خطاب فیصل آباد (لائل پور ) ۱۹۴۶ء میں حضرت مصلح موعود دہلی تشریف لے گئے مجالس علم و عرفان وہاں ترتیب پانے لگیں۔دہلی کی احمد یہ جماعت اس موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش میں لگ گئی۔غیر از جماعت افراد جن میں عقیدت مند اور متلاشیان صداقت بھی ہوتے تھے اور ضد و تعصب رکھنے والے معاندین بھی۔کثرت سے ملاقات کیلئے آتے رہے۔مجلس خدام الاحمدیہ دہلی کی درخواست پر حضور نے نوجوانوں کو بڑے مؤثر رنگ میں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :۔خدام نے مجھ سے درخواست کی ہے کہ میں انہیں نصیحت کروں۔انہیں کچھ باتیں بتاؤں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں باتوں کا زمانہ لمبا ہو گیا ہے۔۔۔باتیں یا تو سونے کے لئے ہوتی ہیں یا باتوں کے بعد کام ہوا کرتے ہیں۔اب سونے کا زمانہ ہمارے لئے نہیں ہے۔ہر قسم کے مصائب اور تکالیف اسلام پر آرہی ہیں۔تذلیل اور تحقیر کے سامان اسلام کے لئے ہو رہے ہیں۔اس وقت سونا سونا نہیں ہو گا بلکہ ہماری موت ہو گی۔باقی رہی دوسری بات کہ باتوں کے بعد کام کیا جائے۔سو اب باتیں بہت ہو چکی ہیں۔۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعوئی مسیحیت فرمایا۔جس کو آج ۵۶ سال گزر رہے ہیں۔اگر اتنی لمبی باتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا تو پھر کب اٹھاؤ گے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِيْنَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ