سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 455
۴۵۵ ہو گا اور جس ذریعہ سے آج تک خدا تعالیٰ کے پیغام دنیا میں پھیلتے رہے ہیں اس طرح اب بھی محمد رسول اللہ میں دل کی ریلی کا پیغام دنیا میں پھیلے گا۔پس اپنی جانوں پر رحم کرتے ہوئے اپنی اولادوں پر رحم کرتے ہوئے اپنے خاندانوں اور اپنی قوموں پر رحم کرتے ہوئے اپنے ملک پر رحم کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے پیغام کو سننے اور سمجھنے کی کوشش کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے آپ کے لئے جلد سے جلد کھل جائیں اور اسلام کی ترقی پیچھے نہ پڑتی چلی جائے۔ابھی بہت کام ہے جو ہم نے کرنا ہے مگر اس کے لئے ہم آپ کی آمد کے منتظر ہیں کیونکہ خدا کی ترقیات علاوہ معجزات کے دین کی اشاعت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہیں۔آپ آئیں اور اس بوجھ کو ہمارے ساتھ مل کر اٹھائیں جس بوجھ کا اٹھانا اسلام کی ترقی کیلئے ضروری ہے۔بے شک قربانی اور ایثار اور ملامت اور تعذیب ان سب چیزوں کا دیکھنا اس رستہ میں ضروری ہے مگر خد اتعالیٰ کی راہ میں موت ہی حقیقی زندگی بخشتی ہے اور اس موت کے اختیار کئے بغیر کوئی شخص خدا تعالیٰ تک نہیں پہنچ سکتا اور اس موت کو اختیار کئے بغیر اسلام بھی غالب نہیں ہو سکتا۔ہمت کریں اور موت کے اس پیالہ کو منہ سے لگالیں تاکہ ہماری اور آپ کی موت سے اسلام کو زندگی ملے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ کا دین پھر ترو تازہ ہو جائے اور اس موت کو قبول کر کے ہم بھی اپنے محبوب کی گود میں ابدی زندگی کا لطف اٹھا ئیں۔اللھم آمین" (احمدیت کا پیغام صفحه ۴۸) عارفانه و عالمانہ مضامین بیان کرنے کے ساتھ ساتھ پیدائش انسان کے مقصد کو پیش نظر رکھنے اور تربیتی ذمہ داریوں کے عملی تقاضوں کی طرف متوجہ کرنا بھی ہمیشہ آپ کے مد نظر رہتا تھا۔آپ فرماتے ہیں:۔" جب تک ہم میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیدا کردہ طاقت ہے اس وقت تک اگر ہم نے دنیا فتح نہ کی تو جب مردہ ہو جائیں گے اس وقت کیا کریں گے۔اگر تم لوگ اس فورس (Force) اور اس قوت اور اس روح سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیدا کی ہے کام نہ لو گے اور ساری دنیا کو ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک ہلانہ دو گے تو یاد رکھو اس کے نکل جانے کے بعد اس کھاد کی طرح ہو جاؤ گے جو دوسروں کو تو فائدہ پہنچا سکتی ہے مگر خود اس قدر ذلیل و ناپاک ہوتی ہے کہ کوئی اپنے