سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 453 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 453

۴۵۳ اقتصادیات و معاشیات کو آپ نے ریاضی کے خشک سوالوں کی طرح اخلاق و روحانیت کو الگ رکھتے ہوئے حل نہیں فرمایا بلکہ قرآن کے ایک طالب علم کی حیثیت میں انسانیت کی خدمت اور مذہب کی اہمیت و ضرورت کو ایسے رنگ میں پیش کیا جس سے انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل کر سکے اور خدا تعالیٰ سے دور جانے کی بجائے اس کے احسانات و انعامات کی قدر کرتے ہوئے اس کے قرب کی تلاش میں رہے۔آپ فرماتے ہیں۔یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کسی کے دشمن نہیں ہیں ہم ہر ایک کے خیر خواہ ہیں اور دشمن سے دشمن انسان کی بدخواہی کا خیال بھی ہمارے دل کے کسی گوشہ میں نہیں آتا ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں اخلاق کی فتح ہو ، روحانیت کی ترقی ہو خدا اور اس کے رسول کی حکومت قائم ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں جو بھی نظام جاری ہو خواہ وہ اقتصادی ہو یا سیاسی ، تمدنی ہو یا معاشرتی بہر حال خدا اور اس کے رسول کا خانہ خالی نہ رہے اور دنیا کو ان کے احکام کی اتباع سے نہ روکا جائے۔پس ہم روس یا کمیونزم کے دشمن نہیں بلکہ روس سے مجھے دلی ہمدردی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ یہ قوم جو سینکڑوں سال ظلموں کا شکار رہی ہے ترقی کرے اور اس کے دن پھریں۔ہاں میں یا کوئی اور حریت پسند یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ایک غلط فلسفہ کو بعض قوموں کی ترقی اور دوسروں کے تنزل کا جب بنایا جائے۔پس اسلام اور رسول کریم میں دل کی دیوی کی بیان فرمودہ ہدایات کو اگر دنیا کا کوئی نظام اپنا لے اور اپنا نظام اسلامی رنگ میں ڈھال لے تو اس کی باتیں ہمارے سر آنکھوں پر لیکن اگر وہ ایسا نہ کرے تو نہ ہی لوگ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اس نظام کو قبول نہ کریں کیونکہ بے شک روٹی کی تکلیف بھی بڑی تکلیف ہے مگر مذ ہب ایسی چیز ہے جسے انسان کسی حالت میں بھی قربان کرنے کیلئے تیار نہیں ہو سکتا۔" اسلام کا اقتصادی نظام صفحہ ۱۱۳- ۱۱۴۔ایڈیشن ۱۹۴۵ء) آپ کی کتب میں تاریخ ادیان سے متعلق بعض نہایت شاندار تحقیقی کتب موجود ہیں۔ان کتابوں سے آپ کی معلومات کی وسعت اور جذبہ تحقیق و جستجو کی عظمت ظاہر ہوتی ہے تاریخی الجھنوں کو دور کرنے کیلئے ایک رہنما اصول پیش کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔اس زمانہ (ابتدائی اسلامی زمانہ - ناقل) کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جو ایک یا دوسرے فریق