سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 399 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 399

۳۹۹ ظاہری سامانوں کی کمی بلکہ عدم موجودگی اور ذرائع کے فقدان ساری دنیا کیلئے مفید وجود کے باوجود جذبہ ایمان سے قوم کے حوصلہ میں اضافہ اور ان میں کام کی لگن پیدا کرنے میں حضرت مصلح موعود کو ید طولی حاصل تھا۔آپ کے ۱۹۵۲ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے لئے مندرجہ ذیل پیغام سے اس امر کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے۔" برادران جماعت احمدیه ! السلام عليكم ورحمة اللہ۔آج پانچ سال سے اوپر ہو گئے کہ قادیان کی جماعت کا اکثر حصہ ہجرت کر کے پاکستان آچکا ہے اور بر صغیر ہندوستان کی جماعت دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب بھی ہندوستان میں اتنی جماعت موجود ہے کہ اگر وہ صحیح طور پر خدمت کرے تو ایک اعلیٰ درجہ کی پنیری کا کام دے سکتی ہے اور میں آپ لوگوں کو آپ کے اس فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔آپ جانتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اس قسم کے ہیں کہ ہم ایک دو سرے کی مالی مدد نہیں کر سکتے۔اسی وجہ سے ہم نے ہندوستان کو پاکستان کی انجمن کو مدد دینے سے بالکل آزاد کر دیا ہے اور تمام ہندوستانی جماعت کو یہ نصیحت کی ہے کہ وہ اپنا روپیه صدرانجمن احمدیہ کو دیں اور اس کے ساتھ مل کر کام کریں تا کہ کسی قسم کی بین الاقوامی پیچیدگی پیدا نہ ہو۔بہت سے لوگ شرارت سے آپ لوگوں کی طرف یہ باتیں منسوب کرتے رہتے ہیں کہ گویا خلیفہ وقت کے پاکستان آجانے کی وجہ سے آپ لوگ بھی پاکستان آنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان لوگوں کی غرض محض حکومت اور جماعت کے درمیان منافرت پیدا کرنا ہے حالانکہ میرے نزدیک ہندوستان کے ہر احمدی کو سوائے اس کے کہ اسے مجبور کر کے نکال دیا جائے ہندوستان میں ہی رہنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ ہماری جماعت کا وہ مرکز جسے بانی سلسلہ احمدیہ نے قائم کیا تھا ہندوستان میں ہی ہے۔اور یہ کتنی حماقت کی بات ہو گی کہ وہ قوم جو اپنے مبلغ امریکہ اور جرمنی سپین اور ہالینڈ اور فرانس اور انگلستان کو مسلمان بنانے کے لئے بھجوا رہی ہے وہ ہندوستان کو خالی چھوڑ دے جو کہ کسی زمانہ میں اسلام کی شان و شوکت کا ایک بڑا بھاری نشان تھا۔ہم تو اسے خدا تعالیٰ کا فضل سمجھتے ہیں کہ حکومت پاکستان اور حکومت ہند کے معاہدات میں دونوں طرف دونوں قوموں کو رہنے کی اجازت ہے اور اس طرح وہ مواد موجود ہے جو کسی وقت دونوں ملکوں میں صلح پیدا کرنے کا موجب ہو جائے گا۔