سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 382
۳۸۲ ساتھ ہو اور آپ کو اسلام کی تعلیم پر بچے طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور اخلاق اور قربانی اور اتحاد اور نظام کے احترام کا مادہ آپ میں پیدا کرے۔" حضور اپنے لندن کے پہلے سفر کے سلسلہ میں شہداء کی روحیں فرض یاد دلا رہی ہیں قادیان سے باہر تھے جب آپ کو حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کی کابل میں شہادت کی خبر ملی۔حضور کی براہ راست نگرانی اور ہدایت کے مطابق یورپ اور ہندوستان کے پریس میں اس واقع کے پس منظر میں جو مذہبی تعصب تھا اس کی اشاعت کی گئی۔مناسب رنگ میں اس پر احتجاج کیا گیا۔جماعت کے نام ایک ولولہ انگیز پیغام دیتے ہو۔حضور نے فرمایا۔برادران! غم کے اس وقت میں ہمیں اپنے اس فرض کو نہیں بھلانا چاہئے جو ہمارے اس مبارک بھائی کی طرف سے ہم پر عائد ہوتا ہے جس نے اپنی جان خدا کے لئے قربان کر دی ہے۔اس نے اس کام کو شروع کیا ہے جسے ہمیں پورا کرنا ہے۔آؤ ہم اس لحہ سے یہ معم ارادہ کر لیں کہ ہم اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک ہم ان شہیدوں کی زمین کو فتح نہیں کر لیں گے (یعنی وہاں احمدیت نہیں پھیلالیں گے ) صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب نعمت اللہ خاں صاحب اور عبد الرحمن صاحب کی روحیں آسمان سے ہمیں ہمارے فرائض زیاد دلا رہی ہیں اور میں یقین کرتا ہوں کہ احمد یہ جماعت ان کو نہیں بھولے گی۔" (الفضل ۱۱۔ستمبر ۱۹۲۴ء) بر صغیر کی تقسیم کے پر آشوب حالات میں ہر ملک کے احمدی اس ملک کے وفادار رہیں حضرت مصلح موعود اور جماعت کے اکثر کو قادیان چھوڑنا پڑا۔حضور نے اس وقت یہ عہد فرمایا کہ اس صدمہ کو زندہ تو رکھا جائے گا مگر کوئی جزع فزع نہیں کی جائے گی اور صبر و صلوۃ سے کام لیتے ہوئے پوری تندہی اور مستعدی سے جماعتی کاموں کو آگے سے آگے بڑھایا جائے گا۔تقسیم کے بعد پہلے جلسہ سالانہ پر حضور نے مندرجہ ذیل پیغام درویشان قادیان کے نام بھیجوایا۔اس پیغام کا لفظ لفظ تربیت یاد دہانی اور نصیحت پر مشتمل ہے اور یہ پیغام بھی بتاتا ہے کہ صبر و رضا کی یہ بے مثال کیفیت کسی مقبول بارگاہ الہی اور متوکل علی اللہ کو ہی نصیب ہوتی ہے۔رت مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ امیر جماعتہائے بھارت نے رقت و خشوع کے حضرت