سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 347 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 347

۳۴۷ کا مقابلہ کریں نہ کہ شور مچائیں۔اگر ہمارے نوجوان ہماری تعلیم پر عمل کریں گے تو اس قسم کی حق تلفی زیادہ عرصہ نہیں ہو سکتی اور نوکریاں اور ملازمتیں آپ ان کے پاس آئیں گی۔" (الفضل یکم جنوری ۱۹۵۳ء صفحه ۳) حضور نے تحفظ ختم نبوت کی آڑ میں ذاتی اغراض اور سیاسی مقاصد کے حصول کا ذکر فرمایا ہے اس سلسلہ میں جناب علی الخیاط آفندی کا حقیقت افروز انکشاف جو بغداد کے اخبار الانباء میں شائع ہوا تھا اس مخالفانہ تحریک کے بہت سے مخفی گوشوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ان کے عربی بیان کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے۔گزشتہ دنوں بعض اخبارات نے قادیانی جماعت کے خلاف پے در پے ایسی صورت میں نکتہ چینی کی ہے کہ جس کی طرف انسان کو توجہ کرنی پڑتی ہے قادیانیت کیا ہے؟ اور اخبارات میں اس کے متعلق اس طرح نکتہ چینی کرنے کی کیا وجہ ہے؟ قادیانیوں اور ان کے مخالفین کے درمیان ایک مشکل در پیش ہے۔قطع نظر اس امر کے کہ وہ اتہامات جو قادیانیوں پر لگائے گئے ہیں وہ درست ہیں یا غلط۔قادیانی لوگ اپنے آپ کو جماعت احمدیہ کہتے ہیں اور وہ میرزا غلام احمد صاحب کے پیرو ہونے کے مدعی ہیں جو ہندوستان میں قادیان کی بستی میں رہتے تھے اور جنہیں ان کے دعووں کے مطابق اللہ تعالٰی نے بھیجا تھا کہ دین اسلام کو مستحکم کریں۔قادیانی انہیں وہی مہدی موعود اور صحیح معہود سمجھتے ہیں جن کے آخری زمانہ میں آنے کے متعلق مختلف مذہبی کتابوں میں پیشگوئی پائی جاتی ہے۔قادیانی اسلامی احکام پر عمل پیرا ہیں اور اسلام کے لئے غیرت رکھتے ہیں اور وہ حنفی مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔احمدیوں کے مخالف انہیں قادیانی کے لفظ سے پکارتے ہیں اور ان کے ظاہری طور پر اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے اور شریعت کے مطابق دینی فرائض کے ادا کرنے کے باوجود انہیں مرتد قرار دیتے ہیں۔احمدیت یا قادیانیت کوئی آج نئی پیدا نہیں ہوئی بلکہ قریباً ستر سال پہلے ہندوستان کے شہر قادیان میں اس کی بنیاد رکھی گئی اور جو لوگ اس طریقہ کو درست سمجھتے تھے انہوں نے اپنے عقیدہ کے مطابق اس کی پیروی کی۔ہمارے نزد یک خواہ یہ طریقہ درست ہو یا باطل ہو خواہ یہ لوگ مسلمان ہوں یا اسلام سے خارج ہوں بہر حال اخبارات کے لئے کوئی معقول وجہ اس امر کی نہیں ہے کہ وہ اس نازک