سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 315
" ۳۱۵ ” نوائے وقت" نے اپنی ۲ دسمبر ۱۹۴۷ء کی اشاعت میں ” مشکلات حقائق پسندی پیدا کر دیں گی۔مرزا بشیر الدین کی رائے“ کے دہرے عنوان سے لکھا:۔مرزا بشیر الدین محمود نے کل مسٹر جسٹس محمد منیر کی صدارت میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ رائے ظاہر کی کہ پاکستان اور پاکستانی عوام کو اس وقت جن گونا گوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ قوم میں حقائق پسندی پیدا کر دیں گی جن کی مدد سے قوم کے لئے شاہراہ ترقی پر گامزن ہونا آسان ہو گا۔مرزا بشیر الدین نے پاکستان کی زرعی پوزیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے بیکار زمینوں کو فورا آباد کرنے پر زور دیا۔آپ نے کہا کہ لوہا کے علاوہ پاکستان کے پاس دوسری تمام معدنیات موجود ہیں جن سے پاکستان اپنی ضروریات بوجہ احسن پوری کر سکتا ہے۔اگر کوشش کی جائے بلوچستان میں اتنا پڑول مل سکتا ہے کہ وہ اباد ان کو بھی مات کر دے گا۔اسی طرح کو ئلہ کی کانوں کے لئے جستجو اور تلاش جاری رکھی جائے تو پاکستان اپنی جملہ ضروریات کا خود کفیل ہو جائے گا۔مرزا صاحب نے کہا کہ حکومت پاکستان کو جزائر لگا دیپ اور مال دیپ کا مطالبہ کرنا چاہئے جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے۔اسی طرح پاکستان کو سالماتی قوت کے لئے ریسرچ بھی کرنا چاہئے۔" (نوائے وقت ۴ دسمبر۷ ۱۹۴ء۔تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۴۱۱) اخبار " نظام " نے اپنے تبصرہ میں لکھا:۔کشمیر کی ہندوستان میں شمولیت کا مطلب پاکستان کو ہر سمت سے گھیرنا ہے۔مسلمانان پاکستان اپنے ملک کی حفاظت کے لئے مجاہدین کشمیر کی ہر قسم کی مدد کریں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب کی تقریر۔لاہور۔۲۔دسمبر۔کل شام ملت احمد یہ (نقل مطابق اصل) کا ایک اجلاس) زیر صدارت جسٹس محمد منیر منعقد ہوا۔اس اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے صد ر ملت احمد یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود نے فرمایا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔کشمیر کے ہندوستان میں جانے کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان کو ہر سمت سے گھیر لیا جائے اور اس کی طاقت کو ہمیشہ زیر رکھا جائے۔انہوں نے فرمایا کہ باشندگان پاکستان کو کشمیر کے جہاد حریت میں ہر قسم کی امداد کرنی چاہئے۔مجاہدین کشمیر نہایت بہادرانہ جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کو گرم کپڑوں کی فوری اشد ضرورت ہے جو ان کو فورا پہنچائے