سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 305
۳۰۵ کیلئے تیار ہوں گے اس لئے خلافت کے اصول پر اس کے اصول تو مقرر کئے جاسکتے ہیں مگر نہ وہ خلیفہ ہو سکتا ہے نہ خلافت کے سارے قانون اس پر چسپاں ہو سکتے ہیں۔" اسلام کا آئین اساسی صفحه ۱ تا ۳۔ایڈیشن ۱۹۴۸ء) خلافت کے اصول اور پاکستانی حکومت پر اسلامی اثرات کے متعلق کچھ تفصیلی بیان کے بعد حضور نے فرمایا۔اس اصولی تمہید کے بعد میں آئین کے لحاظ سے پاکستان کے مستقبل کے کچھ تفصیلی نوٹ دیتا ہوں :۔آئین کے لحاظ سے پاکستان کا مستقبل بہت عظیم الشان ہے کیونکہ اس کے باشندوں کی کثرت اس منبع آئین میں یقین رکھتی ہے جس کی نسبت خالق جن و انس فرماتا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِی مانده: ۴) یعنی میں نے تمہاری ضرورتوں کے تمام مدارج کیلئے قانون بنا دیئے ہیں اور تمہاری ساری ہی ضرورتوں کو قانون کے ذریعے سے پورا کر دیا ہے گویا قرآنی قانون انٹنسو (Intensive بھی ہے اور ایکسٹنسو (Extensive) بھی ہے۔یہ سوال کہ ایک ہی قانون ہمیشہ کی ضرورتوں کو کس طرح پورا کر سکتا ہے ؟ اس کا جواب سمجھنے سے پہلے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ آئین دو قسم کے ہوتے ہیں اجڈ اور فلیکسیبلز یعنی غیر پھلدار اور پھلدار غیر لچکد از قانون میں یہ کمزوری ہوتی ہے کہ اس کو جلد جلد بدلنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن کچکدار قانون کو فوری بدلنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ان قانونوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کپڑے کا کرتہ اور سویٹر۔کپڑے کا بنا ہوا کرتہ بچے کے بڑھنے کے ساتھ جلدی جلدی تبدیل کرنا پڑتا ہے۔سویٹر بوجہ لچکدار ہونے کے بہت دیر تک کام آتا رہتا ہے۔ایسا لچکدار قانون گو دیر تک کام دیتا ہے لیکن اس میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ کبھی اپنے منبع سے بالکل دور چلا جاتا ہے۔اور نئی نئی توجیہوں سے آخر اس کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔اسلام بعض حصوں میں انتہائی غیر لچکدار ہے مگر اس کی بعض تعلیمات انتہائی لچکدار ہیں اور یہ اس کا غیر معمولی امتیاز اور غیر معمولی کمال ہے کہ اس کا غیر لچکدار قانون کبھی بھی خلاف زمانہ نہیں ہوتا اور اس کا لچکدار قانون کبھی بھی ایسی شکل نہیں بدلتا کہ اپنے منبع سے بالکل کٹ جائے۔