سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 304 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 304

۳۰۴ " کتاب ہے ، سنت ایک غیر مشتبہ دستور العمل ہے ، قول رسول بلحاظ سند کے ایک اختلافی حیثیت رکھتا ہے۔بعض اقوال رسول " متفقہ ہیں ، بعض مختلفہ۔جو متفقہ ہیں وہ بھی کلام اللہ اور سنت رسول اللہ کا درجہ رکھتے ہیں۔جن اقوال رسول کے متعلق مختلف فرق اسلام میں اختلاف ہے۔یا ایک ہی فرقہ کے مختلف علماء میں اختلاف ہے ان کا قبول کرنا یا نہ کرنا اجتہاد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے وہ آئین اساسی نہیں کہلا سکتے۔اسی طرح قرآن کریم کی آیات میں سے وہ حصہ احکام کا جن کے معنوں میں اختلاف پیدا ہو جاتا ہے وہ آیتیں تو آئین اساسی میں داخل سمجھی جائیں گی کیونکہ وہ غیر مشتبہ ہیں لیکن اس کے الف یا بے معنی آئین اساسی کا حصہ نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ "الف " کو اختیار کر لینا یا ب کو اختیار کر لینا حکومت وقت کے اختیار میں ہو گا۔پس جہاں تک آئین اساسی کا سوال ہے اگر پاکستان اسلامی آئین اساسی کو اختیار کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنے آئین میں یہ دفعہ رکھنی ہوگی کہ پاکستان کے قوانین جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے قرآن و سنت پر مبنی ہوں گے اور جن امور میں قرآن و سنت سے واضح روشنی نہ ملتی ہو گی اور اجتہاد کی اجازت ہوگی وہاں قرآن کریم، سنت اور کلام رسول کی روشنی میں قانون تجویز کئے جائیں گے۔اگر قانون اساسی اسلامی نہیں بلکہ حنفی یا شافعی یا حنبلی یا مالکی بنانا ہو گا تو پھر اوپر کے قانون میں یہ بھی اضافہ کرنا ہو گا کہ یہ قانون فلاں فرقہ کے علماء کے اجتہادوں پر مبنی ہوں گے مگر اس خصوصیت کی وجہ سے یہ قانون اسلامی آئین نہیں بلکہ حنفی آئین یا شافعی آئین یا خیلی آئین یا مالکی آئین کہلانے کے مستحق ہوں گے کیونکہ اسلام کے لفظ میں تو سب ہی فرق شامل ہیں۔اسلامی اصول پر مبنی گورنمنٹ کے لئے چونکہ انتخاب کی شرط ہے اس لئے اگر اسلامی آئین پر گورنمنٹ کی بنیاد رکھی جائے گی تو مندرجہ ذیل شرائط کو مد نظر رکھنا ہو گا۔اول: حکومت کا ہیڈ منتخب کیا جائے گا۔انتخاب کا زمانہ مقرر کیا جا سکتا ہے کیونکہ پاکستان کا ہیڈ خلیفہ نہیں ہو گا۔خلیفہ کو سارے مسلمانوں پر حکومت حاصل ہوتی ہے اور وہ صرف حکومت کا ہیڈ نہیں ہو تا بلکہ مذہب کا بھی ہیڈ ہوتا ہے۔پاکستان کے ہیڈ کو نہ دوسرے ملکوں کے مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ علماء نذہب کے مسائل میں اس کو اپنا ہیڈ ماننے