سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 298
۲۹۸ تدارک کے لئے سائنس کے اصولوں پر کام کرنے کے لئے اتنی دولت کی ضرورت ہے اور اتنے اخراجات کا احتمال ہے بصورت موجودہ ہماری حکومت جن کی متحمل نہیں ہو سکتی لیکن بیرونی سلطنتوں خصوصاً امریکہ سے قرضہ لینا ہماری آزادی کے لئے زبردست خطرے کا باعث ہو گا۔لہذا اس کا علاج صرف یہ ہے کہ بیرونی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی مشروط اجازت دی جائے ان فرموں کو چالیس فی صدی حصے دیئے جائیں اور چالیس فی صدی حکومت پاکستان دے۔باقی ہیں فیصدی حصوں کے مالک پاکستان کے عوام ہوں۔اس سلسلے میں فرموں سے یہ شرط بھی کی جائے کہ وہ ہمارے حصہ دار کو ساتھ ساتھ ٹریننگ دیں گے۔" ( زمیندار ۱۰دسمبر۱۹۴۷ء) اخبار " طاقت " کے نامہ نگار نے لکھا۔" جماعت احمدیہ کے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد نے آج شب لاء کالج ہال میں ایک مجمع کو خطاب کرتے ہوئے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے کہ حکومت پاکستان امریکہ سے ساٹھ کروڑ ڈالر کا قرضہ حاصل کرے۔ملک فیروز خان نون نے اس جلسہ کی صدرات کی۔سور مرزا بشیر الدین نے کہا کہ اس قرضہ کا مطلب پاکستان پر ساڑھے پانچ کروڑ سالانہ ود کا بوجھ اور ایک غیر حکومت کا معاشی غلبہ ہو گا۔اس کے مقابلہ میں انہوں نے دو سری سکیم پیش کی ہے کہ حکومت پاکستان غیر ممالک کی فرموں کو اپناروپیہ پاکستان میں لگانے کی دعوت دے۔ان فرموں کو سرمایہ کا کل چالیس فیصدی روپیہ لگانے کی اجازت دینی چاہئے۔اور باقی روپیہ حکومت اور باشندگان پاکستان لگا ئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا بھی انتظام کرنا چاہئے کہ باشندگان پاکستان ان فرموں کے ٹیکنیکل آدمیوں سے با قاعدہ کام سیکھ سکیں۔" (طاقت ۹- دسمبر۷ ۱۹۴ء) حضور نے استحکام پاکستان کے موضوع پر اپنی تیسری تقریر میں فرمایا۔و کسی ملک کی معنوی دولت ہی اس کی اصل قوت ہوا کرتی ہے باقی سب چیزیں اس کے مقابل پر ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔اگر پاکستان کا ہر نوجوان عقل سے کام لے، دماغ پر زور دے اور یہ اقرار کرے کہ میں نے اپنی تمام قوتیں ملک و ملت کے لئے وقف کر دینی ہیں تو یقینا ہماری ساری ضروریات پوری ہو سکتی ہیں اور ہم ملک کا اتنا اچھا دفاع کر