سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 21
۱۵۔ان تقریبات کی فلم تیار کی جائے۔۱۔ریڈیو کے ذریعہ حضور کی تقریر۔۱۷۔مختلف جماعتوں اور تنظیموں کی طرف سے حضور کی خدمت میں ایڈریس پیش کئے جاویں۔۱۸۔خلافت جوبلی فنڈ کا چیک حضور کی خدمت میں پیش کیا جاوے۔19۔ایک کمیٹی ان انتظامات کی نگرانی کرے۔بعض انتظامی فیصلے اور سفارشات بھی رپورٹ میں شامل تھیں۔حضرت مصلح موعود نے ان سفارشات پر مصلحانہ بصیرت و عرفان کے مطابق اپنے مخصوص انداز میں سیر حاصل تبصرہ فرمایا جس میں بنیادی نکتہ تو یہ تھا کہ ایک ایسی تقریب جو اپنی نوعیت کی پہلی تقریب ہے ہمیں ایسے رنگ میں منانی چاہئے کہ اس میں کوئی بات فضول نہ ہو۔" ( رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ء صفحہ ۷۳) اس بصیرت افروز تقریر کے بعض اقتباسات جن میں لوائے احمدیت جلوس مشاعرہ اور چراغاں کے متعلق بیش قیمت ہدایات دی گئی تھیں درج ذیل ہیں۔یہ تو ثابت ہے کہ رسول کریم میں ایک سوال کا جھنڈا قائم لوائے احمدیت کے متعلق رہنمائی رکھا جاتا تھا۔بعض لوگ تو کہتے ہیں کہ اب تک ترکوں کے پاس رسول کریم میں لی لی ولی کا جھنڈا ا موجود ہے۔یہ صحیح ہو یا نہ ہو۔بہر حال ایک لمبے عرصہ تک مسلمانوں کے پاس جھنڈا قائم رہا اس لئے اس زمانہ میں بھی جو احمدیت کا ابتدائی زمانہ ہے ایسے جھنڈے کا بنایا جانا اور قومی نشان قرار دیتا جماعت کے اندر خاص قومی جوش کے پیدا کرنے کا موجب ہو سکتا ہے۔احادیث سے جلوس کا جواز ثابت کرنے اور اس بارہ میں حضرت جلوس کے متعلق ہدایت مسیح موعود علیہ السلام کی پسندیدگی کا ذکر کرنے کے بعد حضور نے اصولی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا۔" کے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے ہاں جلوس کا طریق غلط ہے اسے تماشہ بنالیا جاتا ہے۔بجائے سنجیدہ بنانے۔۔میں سب کمیٹی کی تجویز کو اس شرط پر منظور کرتا ہوں کہ وقار اسلامی کو مد نظر رکھا جائے۔ایسا طریق اختیار کیا جائے جس سے احمدیت کی شوکت کا اظہار ہو اور ایسانہ