سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 285
۲۸۵ ۱۹۳۵ء کی سنسز رپورٹ Census Report مل جائے کہ اس وقت تک سب سے آخر میں ۱۹۳۵ء میں ہی سنسز Census ہوئی تھی اور ایک کلکولیٹنگ مشین (Calculating Machine) مل جائے جو جلد جلد ضرب اور تقسیم کرتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے راتوں رات ایک ایسا نقشہ تیار کر سکتا ہوں کہ اس سے ضلع گورداسپور کی بالغ آبادی کی صحیح تعداد منسز ( Census) کے اصول کے مطابق معلوم ہو جائے گی۔سنسز کے متعلق انہوں نے بعض اصول مقرر کئے ہوئے ہیں اور انہوں نے عمر کے لحاظ سے گروپ بنائے ہوئے ہیں اور ہر گروپ کی وفات کی فیصد انہوں نے مقرر کی ہوئی ہے۔وہ تو ایک سال کی عمر سے شروع کرتے ہیں۔لیکن ہم نے ایسی عمر سے یہ کام شروع کرنا تھا کہ انہیں ۱۹۴۷ء میں بلوغت تک پہنچادیں۔مثلا انہوں نے یہ اصول بنایا ہوا ہے کہ تین سال کی عمر کے بچے چار سال کی عمر کے ہونے تک سو میں سے پچانوے رہ جائیں گے۔پھر چار سال سے پانچ سال کی عمر ہونے تک وہ سو میں سے اٹھانوے رہ جائیں گے۔پھر انہوں نے بعض اسی قسم کے اصول وضع کئے ہوئے ہیں اور ہمیں ہر گروپ کو ضربیں اور تقسیمیں دے کر ہندوؤں اور مسلمانوں کی علیحدہ علیحدہ تعداد نکالنی تھی اور وہ تعداد معلوم کرنی تھی جو ۷ ۱۹۴ء میں بالغ ہو چکی تھی اور جو پہلے بالغ تھے ان کی تعداد تو پہلے ہی دی ہوئی تھی۔میں نے حضرت فضل عمر کی خدمت میں عرض کیا تو حضور نے فورا مناسب انتظام کر دیا۔راتوں رات مجھے شاید پچاس ہزار یا ایک لاکھ ضربین دینی پڑیں اور تقسیمیں کرنی پڑیں۔لیکن بہر حال ایک نقشہ تیار ہو گیا اور اس نقشہ کے مطابق ضلع گورداسپور مسلم بالغ آبادی کی فیصد مجموعی لحاظ سے کچھ زائد تھی کم نہیں تھی۔اگلے دن صبح جب مکرم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے یہ حساب پیش کیا تو ہندو بہت گھبرائے کیونکہ وہ تو اپنے آپ کو حساب کا ماہر سمجھتے تھے۔اور انہیں خیال تھا کہ مسلمانوں کو حساب نہیں آتا۔" (الفضل ۶۔نومبر ۱۹۶۹ء) اس جگہ ضمنا یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کمیشن کے سامنے جماعت احمدیہ نے اپنا الگ میمورنڈم کیوں پیش کیا اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہئے کہ کانگریس نے اپنا موقف مضبوط کرنے کیلئے سکھوں وغیرہ کے الگ میمورنڈم پیش کئے تو مسلم لیگ نے بالمقابل اپنا موقف مضبوط کرنے کیلئے جماعت احمدیہ کو میمورنڈم پیش کرنے کیلئے کہا اس طرح مسلم لیگ کے کیس کے ساتھ مسلم لیگ کے