سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 20
۲۰ اس تقریب کے متعلق غور و فکر کر کے ایک معین لائحہ عمل تجویز وگرام خلافت جوبلی کرنے کیلئے مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی گئی۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت حافظ مرزا ناصر احمد صاحب ، حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب ، حضرت مولانا عبدالرحیم در د صاحب۔اس کمیٹی کے صدر حضرت میر صاحب اور سیکرٹری حضرت درد صاحب تھے۔مجلس مشاورت میں ایک سب کمیٹی نظارت علیا کی تجاویز پر غور کرنے کیلئے تجویز ہوئی اس میں مذکورہ بالا کمیٹی کی سفارشات پیش ہو ئیں۔سب کمیٹی شوری نے خوب غور و فکر کرنے کے بعد معمولی رد و بدل کے ساتھ اپنی سفارشات حضور کی خدمت میں بغرض منظوری پیش کر دیں۔ان سفارشات کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ا۔جلسہ سالانہ ۱۹۳۹ء کو جو بلی کیلئے مخصوص کر دیا جائے۔جوبلی کے جلسہ میں ہندوستان و بیرونی جماعتوں کے نمائندے شامل ہوں۔الفضل کا خاص نمبر نکالا جائے۔، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی نایاب تصنیفات کو مناسب " پر شائع کیا جائے۔۵۔قادیان میں ایک مکمل لائبریری بنائی جاوے۔۶۔سلسلہ احمدیہ کی ترقیات کا خوبصورت چارٹ تیار کیا جائے۔ے۔جماعت احمدیہ کا مناسب جھنڈا تیار کیا جائے۔۔ایک پاکیزہ مشاعرہ منعقد کیا جائے۔۹۔ایک عظیم الشان جلوس نکالا جائے۔۱۰ تمام مساجد منارة المسیح بہشتی مقبره قصر خلافت اور دوسری عمارات پر چراغاں کیا جائے۔مرکزی لجنہ کا بھی جلسہ منعقد ہو اور اس کے ساتھ صنعتی نمائش بھی ہو۔تقطيع ۱۲۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی تقریروں کے علاوہ شان محمود نظام خلافت، برکات خلافت پر تقاریر ہوں۔۱۳۔ہر ایک جماعت اپنا اپنا جھنڈ اتیار کر کے ہمراہ لائے۔۱۴۔مختلف ادارے ورزشی مقابلہ جات وغیرہ کروانا چاہیں تو انہیں روکا نہ جائے۔